اسرائیل نے غزہ بورڈ آف پیس میں باضابطہ شمولیت اختیار کرلی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
نیتن یاہوکی صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات ،ایران کے معاملے پر گفتگو کی
ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق بورڈ عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا،رپورٹ
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس اقدام میں باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے دوران کیا، جہاں انہوں نے صدر ٹرمپ اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے بورڈ آف پیس میں اسرائیل کی رکنیت سے متعلق دستاویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ ملاقات کے بعد جاری تصاویر میں نیتن یاہو اور مارکو روبیو کو دستخط شدہ دستاویز تھامے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ سے ایران کے معاملے پر بھی گفتگو کی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نومبر کے وسط میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس کے تحت اس بورڈ اور اس کے ساتھ کام کرنے والے ممالک کو غزہ میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی اجازت دی گئی۔ غزہ میں اکتوبر سے ایک نازک جنگ بندی جاری ہے، جو ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے تحت اسرائیل اور حماس کی منظوری سے عمل میں آئی تھی۔ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے مطابق یہ بورڈ غزہ کے عارضی انتظامی امور کی نگرانی کرے گا۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اس بورڈ کو عالمی تنازعات کے حل کے لیے بھی وسعت دی جائے گی۔ بورڈ کا پہلا اجلاس 19 فروری کو واشنگٹن میں ہوگا، جس میں غزہ کی تعمیر نو پر غور کیا جائے گا۔تاہم بعض ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی بورڈ کی جانب سے کسی علاقے کے انتظامی معاملات کی نگرانی نوآبادیاتی طرز کی یاد دلاتی ہے۔ مزید یہ کہ بورڈ میں کسی فلسطینی نمائندے کی شمولیت نہ ہونے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔ادھر غزہ میں جنگ بندی کے باوجود جھڑپوں اور ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق اکتوبر سے جاری جنگ بندی کے دوران بھی سینکڑوں افراد جان سے جا چکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز