ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: بھارت پر عثمان طارق کا خوف طاری، ایشون کا بلے بازوں کو بچاؤ کیلیے مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے خلاف میچ سے قبل ہی بھارت پر عثمان طارق کا خوف طاری ہوگیا ہے۔
ابرار احمد، محمد نواز، صائم ایوب کی موجودگی میں جہاں پاکستان کا اسپن اٹیک پہلے ہی خطرناک سمجھا جاتا تھا وہیں اب عثمان طارق کی آمد نے بھارت کے موجودہ اور سابق کھلاڑیوں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔
پاکستان کے خلاف میچ سے قبل ہی کئی سابق بھارتی کھلاڑی اور صحافی ایک جانب عثمان طارق کے قانونی ایکشن پر بے جا تنقید کررہے ہیں تو دوسری جانب اپنی ٹیم کو عثمان طارق سے بچاؤ کے مشورے بھی دے رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر وائرل ایک ویڈیو میں سابق بھارتی آف اسپنر ایشون نے مشورہ دیا کہ اگر عثمان طارق بولنگ کرتے ہوئے رکے تو بلے باز کو حق ہے کہ وہ وکٹ سے ہٹ جائے اور کہے کہ مجھے لگا بولر رک رہا ہے۔
ایشون نے کہا کہ میں ہوتا تو ضرور ایسا کرتا، اس سے امپائر اور عثمان طارق پر دباؤ بڑھے گا۔
سابق بھارتی کھلاڑی نے عثمان طارق کو پاکستان کا ’اکا‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے سے ’اکا‘ اپنا کام نہیں کرپائے گا۔
Anna advising indian players to run away from Usman Tariq out of fear? What kind of mindset is that? Face the challenge, don’t fear it.
واضح رہے کہ آئی سی سی کی قانونی لیب عثمان طارق کے بولنگ ایکشن کو دو مرتبہ کلیئر قرار دے چکی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔