بنگلہ دیش: انتخابی معرکے میں بی این پی کی برتری، طارق رحمان وزیراعظم بننے کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی یعنی بی این پی عام انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔
اس پیش رفت کے ساتھ ہی پارٹی چیئرمین طارق رحمان کے وزیرِاعظم بننے کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی نے 299 میں سے اعلان کردہ 180 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔
حکومتی ذرائع کے اندازوں کے مطابق جماعت 200 سے زائد نشستوں پر برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جو اسے واضح پارلیمانی اکثریت دلا سکتی ہے۔
Bangladesh voted for peace and prosperity:
Tarique Rahman ( next prime minister)
Born on November 20, 1965 (age 60 as of 2026).
He entered politics in the 1990s, rising through BNP ranks, and became a controversial figure due to allegations of corruption and influence during his… pic.twitter.com/5i5E6DVjyp
— Moments & memories (@momentmemori) February 13, 2026
بنگلہ دیش کی 300 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 151 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
انتخابات کو مبصرین نے مجموعی طور پر پرامن قرار دیا ہے۔ خواتین اور نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت کو اس انتخابی عمل کی نمایاں خصوصیت قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
الیکشن کمیشن کے حکام کے مطابق پارلیمانی انتخاب اور عوامی رائے شماری میں مجموعی ووٹنگ کی شرح 61 فیصد سے زائد رہی، جو حتمی گنتی کے بعد مزید بڑھ سکتی ہے۔
بی این پی کے ترجمان نے ووٹنگ کے اختتام پر دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جس کے بعد وہ اہم آئینی اور قانون سازی اقدامات آگے بڑھا سکے گی۔
دیگر جماعتوں میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش 54 نشستوں کے ساتھ نمایاں رہی، جبکہ چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواروں نے محدود کامیابیاں حاصل کیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جماعت اسلامی کی یہ کارکردگی اس کی انتخابی تاریخ کی بہترین کارکردگیوں میں شمار کی جا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:
یہ انتخابات اس لحاظ سے بھی تاریخی قرار دیے جا رہے ہیں کہ طویل سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد ملک میں نسبتاً پُرامن انتقالِ اقتدار کی فضا بنی۔
خاص طور پر عوامی لیگ کی عدم شرکت کے باعث کئی حلقوں میں مقابلہ یک طرفہ رہا، جس سے بی این پی کو فائدہ پہنچا۔
Tariq Rahman – the new prime minister of Bangladesh pic.twitter.com/TFkqNCwWOY
— Alisha Rahaman Sarkar (@zohrabai) February 13, 2026
اسی روز ’جولائی چارٹر‘ کے نفاذ سے متعلق قومی عوامی رائے شماری یعنی ریفرنڈم بھی منعقد ہوا۔ ابتدائی رجحانات کے مطابق ’ہاں‘ کے حق میں ووٹ واضح برتری سے آگے ہیں۔
مزید پڑھیں:
منظور ہونے کی صورت میں اس منشور کے تحت 2 ایوانی پارلیمانی نظام سمیت کئی اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔
یہ انتخاب طاریق رحمان کے لیے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جو 17 برس جلاوطنی میں گزارنے کے بعد 25 دسمبر کو وطن واپس آئے اور پہلی بار خود بطور امیدوار میدان میں اترے۔
پارٹی قیادت پہلے ہی اعلان کر چکی تھی کہ بی این پی کی کامیابی کی صورت میں وہ وزیرِاعظم کا منصب سنبھالیں گے۔
مزید پڑھیں:
اگرچہ بعض مقامات پر جھڑپوں، بے ضابطگیوں کے الزامات اور پولنگ اسٹیشنز میں خلل ڈالنے کی کوششوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
تاہم بڑی سیاسی جماعتوں نے مجموعی انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نتائج تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے مبصرین بنگلہ دیش کی حالیہ سیاسی تاریخ میں غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ انتخابی تشدد سے متعلق کسی ہلاکت کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جو کئی دہائیوں میں پہلی بار ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بی این پی پارلیمنٹ پولنگ ریفرنڈم طارق رحمان عوامی لیگ قانون سازی منشور وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بی این پی پارلیمنٹ پولنگ ریفرنڈم عوامی لیگ مزید پڑھیں بنگلہ دیش بی این پی کے مطابق کے بعد کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔