شہید کوٹہ پر پولیس میں بھرتیوں کے خلاف رخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے شہید کوٹہ پر پولیس میں بھرتیوں کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبرو شہید کوٹہ پر پولیس میں بھرتیوں کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار طارق خان نے کہا کہ مجھے سن 2016 میں کوٹہ پر اے ایس آئی بھرتی کیا گیا۔ میرے بعد اسی کوٹہ پر انسپکٹر اور اس سے اوپر کی آسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئیں۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ بظاہر تو درخواستگزار کی بھرتی بھی غلط ہوئی۔ اے ایس آئی کی بھرتی بھی کمیشن کے ذریعے ہوتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تم خود کیوں اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہو۔ درخواستگزار نے کہا کہ کسی کو اے ایس آئی اور کسی کو انسپکٹر بھرتی کرنا امتیازی سلوک ہے۔ مجھے بھی بالائی رینک پر بھرتی کیا جائے یا پھر انہیں بھی نکالا جائے۔
عدالت نے ریمارکس دیئے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں کمیٹی بنائی جاسکتی ہے۔ عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کوٹہ پر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔