لاہور:

سانحہ فیصل چوک (چیئرنگ کراس) کے بہادر پولیس شہداء کی نویں برسی کے موقع پر پنجاب پولیس نے اپنے عظیم سپوتوں کو سلام پیش کیا اور ان کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انسپکٹر جنرل پنجاب عبدالکریم نے اپنے پیغام میں کہا کہ ملک و قوم کی حفاظت کرتے ہوئے فرض کی راہ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء پولیس ہمارا فخر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یومِ شہداء چیئرنگ کراس پنجاب پولیس کے بہادر شہیدوں سے تجدیدِ عہد کا دن ہے اور ان کی قربانیاں ہمیشہ دلوں میں تازہ رہیں گی۔

آئی جی پنجاب کے مطابق 2017ء میں آج ہی کے دن لاہور کے فیصل چوک مال روڈ پر دہشتگرد حملے میں پولیس افسران اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔

اس سانحے میں ڈی آئی جی سید احمد مبین، ایس ایس پی زاہد محمود گوندل سمیت سات پولیس افسران اور اہلکار شہید ہوئے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق شہداء میں اے ایس آئی محمد امین، ہیڈ کانسٹیبل عصمت اللہ، کانسٹیبل محمد اسلم، عرفان محمود اور ندیم تنویر بھی شامل تھے جنہوں نے وطن عزیز کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے کہا کہ پنجاب پولیس 1700 سے زائد شہداء کی امین ہے اور دہشتگردوں و جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء پولیس کے اہلخانہ کی ویلفیئر اور دیکھ بھال اولین ترجیح ہے اور انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

تقریبات میں پولیس افسران اور جوانوں نے شہداء کی یادگار پر پھول رکھے اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی، جبکہ اس عہد کا اعادہ کیا کہ امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھا جائے گا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل پنجاب پولیس پولیس کے

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت