اسرائیلی فوج غزہ سے باہر نکلے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں انٹونیو گوترش کا کہنا تھا کہ ایک جانب اسرائیل، فلسطینیوں کو جبری مہاجرت پر مجبور کر رہا ہے تو دوسری جانب صیہونی آبادکار مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے اُن کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل "انٹونیو گوترش" نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب اسرائیل، فلسطینیوں کو جبری مہاجرت پر مجبور کر رہا ہے تو دوسری جانب صیہونی آبادکار مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے اُن کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مکمل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ سوڈان کی صورتحال پر انٹونیو گوترش نے کہا کہ اس ملک میں بھی انسانی صورتحال بہت ہولناک ہے۔ انہوں نے سوڈان میں متحارب فریقین سے لڑائی بند کرنے اور عوام کے مصائب ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ انٹونیو گوترش کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ شہر کے دفاعی ترجمان "محمود بصل" نے گزشتہ شب میڈیا کو بتایا کہ پورے علاقے میں سرچ اور امدادی کارروائیاں جاری ہونے کے باوجود، تقریباً 8 ہزار شہداء کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔
محمود بصل نے کہا کہ 3 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی تقدیر کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں کہ وہ زندہ ہیں، شہید ہو چکے ہیں یا گرفتار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی لڑائی، مقامات تک رسائی میں دشواری اور ملبہ ہٹانے کے لئے وسائل کی کمی کی وجہ سے سینکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں یا تو ناپید ہو گئیں یا پھر بکھر گئی ہیں۔ دوسری جانب حالیہ بدھ کے روز غزہ میں قائم فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک فلسطینی شہداء کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 71 ہزار 686 ہو گئی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے مزید کہا کہ اسرائیل نے 10 اکتوبر 2025ء سے نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں مزید 591 افراد شہید اور 1578 فلسطینی زخمی ہو گئے۔ مذکورہ وزارت نے زور دیا کہ متعدد شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں میں دبی ہوئی ہیں۔ جہاں ایمبولینسز اور امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔