Islam Times:
2026-07-23@23:33:22 GMT

اسرائیلی فوج غزہ سے باہر نکلے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

اسرائیلی فوج غزہ سے باہر نکلے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل

میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں انٹونیو گوترش کا کہنا تھا کہ ایک جانب اسرائیل، فلسطینیوں کو جبری مہاجرت پر مجبور کر رہا ہے تو دوسری جانب صیہونی آبادکار مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے اُن کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل "انٹونیو گوترش" نے کہا کہ غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک جانب اسرائیل، فلسطینیوں کو جبری مہاجرت پر مجبور کر رہا ہے تو دوسری جانب صیہونی آبادکار مغربی کنارے میں فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، جس سے اُن کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار الجزیرہ سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مکمل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ سوڈان کی صورتحال پر انٹونیو گوترش نے کہا کہ اس ملک میں بھی انسانی صورتحال بہت ہولناک ہے۔ انہوں نے سوڈان میں متحارب فریقین سے لڑائی بند کرنے اور عوام کے مصائب ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ انٹونیو گوترش کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ شہر کے دفاعی ترجمان "محمود بصل" نے گزشتہ شب میڈیا کو بتایا کہ پورے علاقے میں سرچ اور امدادی کارروائیاں جاری ہونے کے باوجود، تقریباً 8 ہزار شہداء کی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

محمود بصل نے کہا کہ 3 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں اور ان کی تقدیر کے بارے میں کوئی تصدیق شدہ معلومات نہیں کہ وہ زندہ ہیں، شہید ہو چکے ہیں یا گرفتار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی لڑائی، مقامات تک رسائی میں دشواری اور ملبہ ہٹانے کے لئے وسائل کی کمی کی وجہ سے سینکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں یا تو ناپید ہو گئیں یا پھر بکھر گئی ہیں۔ دوسری جانب حالیہ بدھ کے روز غزہ میں قائم فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا کہ 7 اکتوبر 2023ء سے اب تک فلسطینی شہداء کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 71 ہزار 686 ہو گئی ہے۔ فلسطینی وزارت صحت نے مزید کہا کہ اسرائیل نے 10 اکتوبر 2025ء سے نافذ العمل جنگ بندی کے معاہدے کی متعدد بار خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں مزید 591 افراد شہید اور 1578 فلسطینی زخمی ہو گئے۔ مذکورہ وزارت نے زور دیا کہ متعدد شہداء کی لاشیں اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں میں دبی ہوئی ہیں۔ جہاں ایمبولینسز اور امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم