وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کی منظوری دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 13 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف اعلی عہدوں پر تعیناتیوں کی منظوری دے دی۔
پی ایم سیکرٹریٹ سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعظم نے ڈاکٹر شبانہ حیدر کو پلاننگ کمیشن میں ممبر پاپولیشن تعینات کرنے کی منظوری دے دی، ان کی تعیناتی کنٹریکٹ بنیادوں پر دو سالہ مدت کے لئے کی گئی ہے۔
اِسی طرح چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کو سیکرٹری ریونیو ڈویژن کے اضافی چارج میں توسیع کردی گئی، ان کے چارج میں تین ماہ کی توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔علاوہ ازیں نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ گریڈ19 کے سید بلال حیدر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں او ایس ڈی تعینات کر دیا گیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کا عمران خان کو اڈیالہ سے اسلام آباد جیل منتقل کرنے کا فیصلہ حکومت کا عمران خان کو اڈیالہ سے اسلام آباد جیل منتقل کرنے کا فیصلہ اقوام متحدہ کا بڑا فیصلہ، طالبان پابندیوں کی نگرانی میں ایک سال کی توسیع کردی گئی اوورسیزپاکستانیوں کیلئے مراعاتی پیکج متعارف، اعزازات کا بھی اعلان سی ڈی اے کے زیر انتظام رمضان ٹیلنٹ ہنٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کے سلسلے میں خواتین و مرد کھلاڑیوں کیلئے اوپن ٹرائلز کا انعقاد پاک بحریہ کے جہاز خیبر کا ترک نیول بیس اکساز کا دورہ اور دو طرفہ مشق ترگتریزمیں شرکت پولیس اور میڈیا پارلیمنٹ ہاوس کے باہر موجود ،لیکن تحریک انصاف تاحال غائب ، تازہ ترین مناظر سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی منظوری
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔