کوئٹہ میں بسنت میلے کا آغاز، خوف کے سائے میں خوشیوں کی واپسی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
لاہور کے بعد وادی کوئٹہ میں بھی بسنت میلے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ 13 سے 15 فروری تک جاری رہنے والے اس رنگا رنگ میلے کو شہری دہشتگردی کے حالیہ واقعات کے بعد خوف کی فضا توڑنے اور زندگی کی رونقیں بحال کرنے کی ایک مثبت کوشش قرار دے رہے ہیں۔
کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 31 جنوری کو پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات کے بعد صوبے بھر میں خوف اور بے چینی کی کیفیت پائی جا رہی تھی۔ ایسے حالات میں بسنت میلے کے انعقاد کو شہریوں نے معمولات زندگی کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسم بہار کا تہوار بسنت کوئٹہ پہنچ گیا، تیاریاں عروج پر
شہر بھر میں بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ شہری بڑی تعداد میں پتنگیں اور ڈور خرید رہے ہیں، گھروں کی چھتوں کو سجایا جا رہا ہے جبکہ موسیقی اور شام کے اوقات میں باربی کیو کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
شہری عرفان الحق کا کہنا ہے کہ انہوں نے بسنت کے لیے بھرپور تیاری کی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے واقعات کے بعد لوگ خوف اور ڈپریشن کا شکار تھے، ایسے میں رنگوں اور خوشیوں کا یہ تہوار صوبے کے زخمی دلوں پر مرہم کا کام کرے گا۔
ایک اور شہری اسلم خان نے بتایا کہ بسنت کو جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے کیونکہ لوگ مسلسل افسوسناک واقعات دیکھ کر ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول ایسی مثبت اور خوشگوار سرگرمیاں معاشرے میں امید اور توانائی پیدا کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت فیسٹیول لاہور کے لوگوں کے لیے معاشی طور پر کتنا فائدے مند ثابت ہوا؟
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ بسنت میلہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی سودمند ثابت ہو رہا ہے۔ پتنگوں، ڈور اور دیگر سامان کی خرید و فروخت سے بازاروں میں رونق لوٹ آئی ہے۔ تاجروں کے مطابق اس طرح کی تقریبات سے نہ صرف کاروبار بہتر ہوتا ہے بلکہ معیشت میں پیسے کی گردش بھی بڑھتی ہے جس کا فائدہ عام آدمی تک پہنچتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بسنت میلہ محض ایک ثقافتی تقریب نہیں بلکہ خوف کے اندھیروں میں امید کی ایک کرن ہے، جو اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ زندگی تمام تر مشکلات کے باوجود جاری رہتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بسنت بلوچستان پاکستان پتنگ بازی دکاندار کوئٹہ لاہور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان پاکستان پتنگ بازی دکاندار کوئٹہ لاہور کے لیے کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔