ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کیخلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ، ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد ( ملک نجیب ) وفاقی وزیرِ داخلہ کی زیر صدارت ملکی سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرل پولیس سمیت اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران چاروں صوبوں کے آئی جیز نے اپنے اپنے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی اور دہشت گردی کے حالیہ رجحانات، ممکنہ خطرات اور انسدادی اقدامات سے آگاہ کیا۔ سیکیورٹی اداروں نے خاص طور پر کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں اور ان کے سلیپر سیلز کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں شدت پسند تنظیم داعش کی پاکستان میں ممکنہ موجودگی اور اس سے لاحق خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق شرکاء نے اس خدشے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید مؤثر بنانے اور بین الصوبائی رابطوں کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں پیش آنے والے دھماکوں کے تناظر میں وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے پر بھی مشاورت کی گئی۔ اہم تنصیبات، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر نگرانی بڑھانے اور اضافی نفری تعینات کرنے کی تجاویز زیر غور آئیں۔ ذرائع کے مطابق وزیرِ داخلہ نے ہدایت کی کہ دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنایا جائے اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ سلیپر سیلز کی نشاندہی اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے خفیہ معلومات کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جائیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور وفاق و صوبوں کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خطرے کا مؤثر سدباب کیا جائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔