Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:41:12 GMT

حادثات ؟ حکومت، انجینئر اور بلڈر سب جوابدہ ہیں: شرجیل میمن

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

حادثات ؟ حکومت، انجینئر اور بلڈر سب جوابدہ ہیں: شرجیل میمن

 

کراچی: ( نیوزڈیسک) سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حادثات میں ذمہ داری کس کی ہے، حکومت، انجینئر اور بلڈرز سب جوابدہ ہیں۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں ایسوسی ایشن آف کنسلٹنگ انجینئرزپاکستان کی زیراہتمام کانفرنس ہوئی، کانفرنس میں انجینئرنگ اور تعمیراتی شعبے کے سینئر انجنیئرز اور ماہرین نے شرکت کی۔

سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن کی کانفرنس میں آمد پر انجینئرز اور آرکیٹیکٹس کی جانب سے پرتپاک استقبال کیا گیا۔

اس موقع پر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تمام نظام ایسا ہو گیا ہے کہ ہم اصل مسئلے پر بات ہی نہیں کرتے، تمام میڈیا اور ٹی وی چینلز صرف سیاسی موضوعات پر بات کرتے ہیں، غیر نتیجہ خیز مسائل پر نہیں۔

سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ ہماری زیادہ تر گفتگو آپسی الزامات اور توہین تک محدود ہو گئی ہے، آج ہم سب سے اہم موضوع پر بات کر رہے ہیں جو ہر فرد کی زندگی اور کام کو متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشاورتی ایسوسی ایشن نے یہ موضوع اٹھایا ہے اور کہا کہ ایسے واقعات میں ذمہ دار کون ہوتا ہے؟ حکومت کی ذمہ داری بھی کہیں موجود ہے، انجینئر کی ذمہ داری بھی، عمارت بنانے والوں کی بھی، سماجی ذمہ داری بھی کسی حد تک ہماری سول سوسائٹی پر عائد ہوتی ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آج بہت عرصے بعد کسی نے انجینئر کے نام سے پکارا، اس کانفرنس کا موضوع قابل تحسین ہے، یہ معاملہ کراچی اور ملک کا اہم مسئلہ بن چکا ہے، حادثات اور قدرتی آفات میں ذمہ داری کس کی ہوتی ہے، حکومت، سٹیک ہولڈر، انجینیئر، بلڈر سب کی ذمہ داری ہے۔

سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ کیا سب سے زیادہ ذمہ داری صرف حکومت کی ہوتی ہے، کسی حادثے میں حکومتی ذمہ داری بھی شامل ہوتی ہے، مکان اور پلازہ بنانے کے قوانین موجود ہیں مگر عملدرآمد نہیں ہوتا، تعمیر سے پہلے زمین کی مٹی کا ٹیسٹ لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثرعمارتوں میں سیم اور پانی کے رساؤ کے مسائل ہیں، چیدہ چیدہ مسائل کی اصلاح اور حل ضروری ہے، انجینئرنگ کالج اور یونیورسٹی سے ڈپلومہ حاصل ہوتا ہے مگر قوانین پر عمل نہیں ہوتا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ گل پلازہ سانحے میں ذمہ داران کا تعین کمیٹی نے کیا، حکومت بھی ذمہ دار تھی، پانی دیر سے پہنچا مگر ہم نے قبول کیا اور جوڈیشل کمیشن بنایا گیا، پائپ سے لیکیج نیچے والی منزل اور بجلی پر اثر ڈال سکتی ہے، فائر کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ الیکٹریشنز کی قابلیت، کوالٹی کی تاریں اور وائرنگ اہم ہیں، بہت کم معیار کی کمپنیوں پر انحصار ہے، معاشرے میں ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے، یونیورسٹی تعلیم اور ڈپلومہ امپلیمنٹیشن پر کام نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری تسلیم ہے، گل پلازہ رپورٹ نیک نیتی اور ایمانداری سے شائع کی گئی، حکومت نے عدالتی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا، فیصلہ سب قبول کریں گے، گل پلازہ کے مالک نے غیر قانونی منزلیں تعمیر کیں، نقشے کے مطابق کام نہیں ہوا۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آتشزدگی کے وقت 4 ہزار لوگ موجود تھے، مگر 80 افراد کی جانیں گئیں، سانحے کے تمام محرکات سامنے ہیں، ابتدائی ذمہ داری حکومت کی، مگر سب کو قوانین پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ گل پلازہ کے مالک نے کتنی منزلیں غیر قانونی تعمیر کیں، پلازے کی نقشے کے مطابق تعمیر نہیں کی گئی، سانحے کے تمام محرکات ہمارے سامنے آ گئے ہیں، ابتدائی ذمہ داری حکومت کی ہے، گر سول سوسائٹی سمیت تمام افراد کو قوانین پر عملدرآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے لیے دعاگو ہوں، ہر بندہ آصف علی زرداری نہیں ہو سکتا، انہوں نے 14 سال قید کاٹی، کل ہفتہ ہے، آپ کو معلوم ہے کہ ہفتہ کو اسمبلی نہیں ہوتی، ہفتہ کو اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کا مقصد کیا ہے، ایک بند عمارت کا گھیراؤ کرنے جا رہے ہیں، چھٹی والے دن، جب لوگ نہیں آتے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے شاہراہ فیصل پر مارچ کیا، ان کے مارچ کا نقصان عوام کو ہوا، شاہراہ فیصل کراچی نہیں بلکہ پاکستان کی مرکزی شاہراہ ہے، ہم آپ کو سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، اگر جلسہ یا دھرنا دینا ہے تو حکومت جگہ فراہم کرے گی۔

سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کو بھی جلسے کا شوق ہو رہا ہے، ایم کیو ایم وفاق میں بیٹھی ہے، اپنے مطالبات وزیر اعظم سے منوائیں، ایم کیو ایم ایک بار پھر دھڑوں کا شکار ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان میں حکومت سندھ ہمیشہ ریلیف پیکیج کا اعلان کرتی ہے، گزشتہ رمضان میں بھی سبسڈی دی گئی تھی، بے نظیر سپورٹ پروگرام کے تحت صرف رجسٹرڈ افراد کو سبسڈی دی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان