عمران خان کے ساتھ ہونے والے رویے سے نفرتیں بڑھیں گی پھر کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ساتھ رویہ خطرناک بات ہے، اس سے نفرتیں اتنی بڑھ جائیں گی کہ کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہاں روکا جا رہا ہے آگے نہیں دیا جارہا، وہ لوگ کوئی وجہ نہیں بتاتے بس اوپر سے انہیں ایک حکم آ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے وزرا کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، ان کے گریبان پھاڑے گئے ہیں، میرے مطابق یہ رویہ درست نہیں ہے، ہمارے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے اراکین اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ کسی حکومتی عہدیدار کی جانب سے رابطہ نہیں کیا گیا، کورٹ کے آرڈرز ہیں کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ملنے دیا جائے اور ان کا ٹھیک علاج ہو، پوری دنیا کو پتا چل گیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جیل میں کیا رویہ رکھا گیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے، پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر اور سابق وزیراعظم جس کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا ہے، اس کے ساتھ یہ رویہ ہو رہا ہے، یہ خطرناک بات ہے کیونکہ اس سے نفرتیں اتنی بڑھ جائیں گی کہ کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا پہلا مطالبہ ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو سرکاری ڈاکٹروں کے ہمراہ جیل میں بھیجا جائے، ان کے ذاتی معالج اور فیملی کے ہمراہ انہیں الشفا اسپتال بھججا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ مراد سعید ہمارا بڑا ہے اس کی بات کو ہوا میں نہیں پھینکا جا سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کہ عمران خان عمران خان کے سہیل آفریدی نے کہا کہ کے ساتھ گیا ہے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :