"وندے ماترم" پر مودی حکومت کا حکم غیر آئینی، یکطرفہ اور منمانی ہے، مولانا ارشد مدنی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
جمعیت علماء ہند کے صدر نے کہا کہ مسلمان کسی کو وندے ماترم گیت کو گانے یا بجانے سے نہیں روکتے ہیں لیکن گانے کی کچھ بند ایسے عقائد پر مبنی ہیں جو وطن کو دیوتا کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو توحید پرست مذاہب کے بنیادی عقیدے سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ممتاز مسلم تنظیم جمعیت علماء ہند نے بی جے پی کی اس ہدایت کو "یکطرفہ" اور "منمانی" قرار دیا جس میں سرکاری تقریبات میں قومی گیت "وندے ماترم" کے تمام چھ بند گائے جانے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جمعیت علماء ہند نے الزام لگایا کہ یہ مذہب کی آزادی پر ایک "صریح حملہ" ہے۔ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان کسی کو وندے ماترم گیت کو گانے یا بجانے سے نہیں روکتے ہیں لیکن گانے کی کچھ بند ایسے عقائد پر مبنی ہیں جو وطن کو دیوتا کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو توحید پرست مذاہب کے بنیادی عقیدے سے متصادم ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تمام سرکاری پروگراموں، اسکولوں، کالجوں اور تقاریب میں "وندے ماترم" کے تمام بند کو لازمی طور پر گائے جانے کا مودی حکومت کا "یکطرفہ اور زبردستی فیصلہ" نہ صرف آئین ہند کی طرف سے ضمانت دی گئی مذہب کی آزادی پر ایک کھلا حملہ ہے بلکہ اقلیتوں کے آئینی حقوق کو کم کرنے کی ایک منظم کوشش بھی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چونکہ ایک مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے اس لئے اسے یہ گیت گانے پر مجبور کرنا آئین کے آرٹیکل 25 اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اس گیت کو لازمی قرار دینا اور اسے شہریوں پر مسلط کرنے کی کوشش حب الوطنی کا اظہار نہیں ہے، بلکہ یہ انتخابی سیاست، فرقہ وارانہ ایجنڈا، اور بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی دانستہ کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ جمعیت کے صدر نے مزید کہا کہ ملک سے محبت کا حقیقی پیمانہ نعروں میں نہیں بلکہ کردار اور قربانی میں ہے، جس کی روشن مثالیں مسلمانوں اور جمعیت علماء ہند کی تاریخی جدوجہد میں نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس طرح کے فیصلے ملک کے امن، اتحاد اور جمہوری اقدار کو کمزور کرتے ہیں اور آئین کی روح کو مجروح کرتے ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مودی حکومت کے حکم پر سخت اعتراض کیا اور اس فیصلے کو "غیر آئینی اور مذہبی آزادی کے منافی" قرار دیا۔ ایک پریس بیان میں بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے حکومت کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی، مذہبی آزادی اور سیکولر اقدار کے خلاف، سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی اور مسلمانوں کے مذہبی عقائد سے براہ راست متصادم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ فیصلہ مسلمانوں کے لیے مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا ارشد مدنی جمعیت علماء ہند وندے ماترم نے کہا کہ کرتے ہیں قرار دیا
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔