کراچی میں بے رحم ڈاکوؤں نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
رواں سال شہر قائد میں ڈکیتی مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہوگئی ہے جن میں ایک طالبہ بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والا نوجوان دوراج علاج دم توڑگیا۔ 18 سالہ حذیفہ ولد محمد طارق بدھ کو پیرآباد تھانے کے علاقے اورنگی ٹاؤن قصبہ کالونی ڈھائی نمبرکے قریب موبائل فون کے سامان کی دکان پر ڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے زخمی ہوا تھا۔ حذیفہ جناح اسپتال میں زیر علاج تھا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، مقتول نوجوان قصبہ کالونی کا رہائشی تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول نوجوان نے واردات کے دوران اپنا موبائل فون پھینک دیا تھا، جس پر مسلح ملزمان نے فائرنگ کر دی۔
واقعے کے بعد مسلح ملزمان پیدل فرار ہو رہے تھے کہ علاقہ مکینوں نے دونوں ڈکیتوں کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا، اس دوران پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی، جس نے دونوں ملزمان موسیٰ اور معراج کو گرفتار کرلیا۔ واضح رہے کہ رواں سال شہر قائد میں ڈکیتی مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہوگئی ہے جن میں ایک طالبہ بھی شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔