سرکاری اسپتالوں میں نرسوں کی قلت و پروموشن کے مسائل جلد حل کرنیکی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سیکریٹری صحت کی ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں کام کرنے والی نرسوں کی قلت اور پروموشن کے مسائل جلد حل کردیے جائیں گے۔
جمعہ کو ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین اعجاز علی کلیری کی سربراہی میں دیگر عہداروں نے صوبائی سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگی سے ملاقات کے دوران یادداشت پیش کی۔
ینگ نرسز ایسوسی ایشن سندھ نے صوبائی محکمہ صحت کو نرسنگ کیڈر کی زیر التوا پروموشن اور اسپتالوں میں نرسوں کی قلت کے حوالے سے صوبائی سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی کو یاداشت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ میں نرسوں کے زیر التوا فور ٹیئر فارمولے کے تحت گریڈ 16 سے گریڈ 20 تک کی نرسوں کی ترقیوں کے احکامات جاری کیے جائیں اور نرسوں کے پروموشن کوٹے کو 25 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کیا جائے۔
اعجاز علی کلیری نے بتایا کہ نرسوں کی بھرتیوں کے قوانین پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ اسپتالوں میں نرسوں کی شدید قلت پر قابو پایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں نرسوں کی گریڈ 17 سے 18 کی 172 اسامیاں، گریڈ 19 کی 19 اسامیاں اور نرسنگ گریڈ 20 کی دو اسامیاں گذشتہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نرسنگ کی ایوننگ فیکلٹی کی زیرِ التواء ادائیگیوں کی فوری طور پر جاری کیا جائے۔
اعجاز کلیری نے کہا کہ پنجاب کی طرز پر سندھ میں بھی نرسنگ کالج کی گریڈ 19 کی اسامی کو اپ گریڈ کرکے گریڈ 20 کا کیا جائے۔
انہوں نے چیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ کی گریڈ 19 سے اسامی کو گریڈ 20 میں ترقی دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے دوسروں صوبوں کے طرح نرسوں کے سروس اسٹرکچر کا بھی مطالبہ کیا۔
صوبائی سیکریٹری صحت نے نرسوں کے تمام جائز مطالبات حل کرنے کی یقین دہائی کرائی۔ وفد میں ینگ نرسز ایسوسی ایشن حیدرآباد کی صدرگلناز، وائس پریزیڈنٹ سندھ غلام قادر مغیری، علی اکبر چاچڑ، ہیرا لال شامل تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسپتالوں میں نرسوں کی ینگ نرسز ایسوسی ایشن نرسوں کے کیا جائے گریڈ 20
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔