پارک میں 3 روزہ فلاور شو کا افتتاح: جماعت اسلامی کا شہری حقوق کیلیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کامران سراج، نصرت اللہ، محمد الیاس اور عارف منیر کے ہمراہ لال قلعہ پارک میں تین روزہ فلاور شو کا افتتاح کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو ان کا حق دلانے اور بااختیار شہری حکومت کے قیام کے لیے مسلسل جدوجہد کرے گی۔
منعم ظفر خان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی ہفتہ 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے گی تاکہ شہر کے عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے، جماعت اسلامی شہر کے حق پر کسی کو ڈاکا ڈالنے نہیں دے گی اور جن لوگوں نے شہریوں سے جینے کا حق چھینا، ان کا تعاقب کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے زیر انتظام 9 ٹاؤنز میں گزشتہ ڈھائی سال کے دوران واٹر اینڈ سیوریج کے شعبے میں 2 ارب روپے خرچ کیے گئے، جو صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی، کراچی کے عوام ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دیتے ہیں، اس لیے انہیں سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت 18 سال سے شہری سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
گلبرگ ٹاؤن کے امیر کامران سراج نے کہا کہ لال قلعہ پارک کی بحالی ایک وعدے کی تکمیل ہے اور گلبرگ کو چمکتا دمکتا ٹاؤن بنانے کے لیے کام جاری ہے۔
نصرت اللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے کام شہر کے عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں پر ہو رہے ہیں، اور تعلیم و صحت کے شعبے میں بھی اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ فلاور شو شہر کے عوام کے لیے تفریح اور سماجی رابطے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے تعمیر و ترقی اور شہری حقوق کے لیے جاری اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ جماعت اسلامی کے عوام کہا کہ کے لیے شہر کے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔