اسرائیلی آبادکاروں کے بڑے پیمانے پر حملے، 50 سے زائد فلسطینی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی سیکورٹی میں اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں کم از کم 54 فلسطینی زخمی ہو گئے۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی آباد کاروں اور فوجیوں نے آج صبح مغربی کنارے کے قصبوں پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں گرفتاریاں، درجنوں زخمی اور زرعی اراضی اور املاک کی تباہی ہوئی ہے۔
آباد کاروں نے نابلس کے جنوب میں تلفت اور قصرہ کے قریب فلسطینیوں پر براہ راست گولہ بارود اور آنسو گیس فائر کی، آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرق میں واقع قصبے میخماس کے قریب خلیت الصدرہ کے اجتماع پر دھاوا بول دیا۔
ترمس آیا میں رام اللہ کے قریب آباد کاروں نے تقریباً 300 زیتون کے درخت کاٹ دیے اور زرعی زمین کو بلڈوز کر دیا، جب کہ فوجی دستوں نے گاؤں میں گھروں پر چھاپے مارے اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
اسی علاقے میں، فوج نے دیر غسانہ اور بیت ریما پر دھاوا بول دیا، جب کہ جبہ، سیرس اور میتھالون سمیت جنین کے قریب کئی قصبوں پر بھی فوج موجود رہی۔
حماس نے طولکرم اور مقبوضہ مغربی کنارے کے دیگر علاقوں میں “آباد کار گروہوں اور فاشسٹ قابض فوج” کے ذریعہ کئے گئے “وحشیانہ حملے” کی مذمت کی ہے۔
حماس نے بیان میں کہا کہ جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت منظم طریقے سے ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف نسلی تطہیر کی پالیسی پر عمل درآمد کر رہی ہے، قابض فوج کی طرف سے محفوظ بھاری ہتھیاروں سے لیس آباد کاروں کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہروں، دیہاتوں اور کیمپوں میں تباہی مچانے کے لیے بےلگام کر رکھا ہے۔
حماس نے بین الاقوامی اداروں پر عمل کرنے پر زور دیا اور مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں سے مطالبہ کیا کہ “ان خطرناک پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جائیں، اور ہر قسم کی جدوجہد اور مزاحمت کو فعال کریں”۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آباد کاروں کے قریب
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔