بنگلہ دیش کے پوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش میں 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے زور دیا ہے کہ ملک میں نئی اور صحت مند سیاست کو فروغ دیا جائے اور ماضی کی روایتی سیاست کے تاریک ابواب کو مسترد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بی این پی کی بھاری اکثریت کے بعد طارق رحمان پر سب کی نظریں، کیا بنگلہ دیش میں نیا سیاسی باب شروع ہوگا؟
بنگلہ دیش میں 11 جماعتوں پر مشتمل اپوزیشن اتحاد کا اعلیٰ سطحی اجلاس جمعے کی شب مرکزی دفتر بنگلہ دیش جماعت اسلامی میں منعقد ہوا جس کی صدارت امیر جماعت ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کی۔
اجلاس میں 12 فروری کو منعقد ہونے والے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے نتائج اور بعد از انتخاب صورتحال اور آئندہ کی حکمت عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ انتخابی عمل کے دوران متعدد قابل اعتراض امور سامنے آئے جن میں مبینہ دھاندلی، پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز تک رسائی میں رکاوٹیں اور دیگر بے ضابطگیاں شامل ہیں۔
انتخابی بے ضابطگیوں پر تحفظاتاتحاد کے رہنماؤں نے ملک کے مختلف حصوں میں کارکنان اور ووٹرز کے خلاف مبینہ تشدد، حملوں اور آتشزنی کے واقعات کی مذمت کی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے اقدامات فوری طور پر بند کیے جائیں بصورت دیگر سخت فیصلے کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش انتخابات: بی این پی کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہوگئی
اجلاس میں بعض حلقوں میں نتائج کی فہرستوں میں مبینہ رد و بدل اور طریقۂ کار میں بے قاعدگیوں کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
اتحاد نے اعلان کیا کہ جہاں ناانصافی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے وہاں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی خصوصاً ڈھاکہ 13 اور کھلنا 5 کے حلقوں کا ذکر کیا گیا۔
رہنماؤں نے عندیہ دیا کہ مقررہ مدت میں اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
اتحاد نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ امن، نظم و ضبط اور متحدہ بنگلہ دیش کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا اور جسے وہ آمرانہ طرز عمل قرار دیتا ہے اس کے خلاف ڈٹا رہے گا۔
اتحاد نے قبل از انتخابات وعدوں کی پاسداری، خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے آواز اٹھانے اور عوامی مفاد کو ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کیا۔ مبینہ بدانتظامی کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری احتساب کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
الیکشن کمیشن سے مطالباتاتحاد نے بنگلہ دیش الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ایسے امیدواروں کے نتائج معطل کیے جائیں جن پر قرض نادہندگی کے الزامات ہیں، کیونکہ عوامی نمائندگی آرڈر کے تحت یہ اجازت نہیں دی جا سکتی۔
علاوہ ازیں حالیہ ریفرنڈم کے فیصلے پر عملدرآمد کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں: بی این پی کی انتخابی فتح کے بعد پاکستان کا بنگلہ دیش سے تعلقات مزید مضبوط بنانے کا اعلان
اجلاس میں جماعت اسلامی کے سینیئر رہنما، اتحادی جماعتوں کے نمائندگان، نومنتخب اراکین پارلیمنٹ اور دیگر پارٹی عہدیداران شریک ہوئے۔ اجلاس کے بعد ڈاکٹر شفیق الرحمن نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
11 جماعتی اتحاد بنگلہ دیش بنگلہ دیش جماعت اسلامی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 11 جماعتی اتحاد بنگلہ دیش بنگلہ دیش جماعت اسلامی بنگلہ دیش اتحاد نے کیا گیا کے بعد
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،