بنگلہ دیشی شائقین کا کولمبو میں پاکستانی ٹیم سے محبت کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
کولمبو میں میچ کے دوران بنگلہ دیش سے آئے شائقین نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی بھرپور حمایت کر کے دوستی کی خوبصورت مثال قائم کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ اہم معرکہ، پاکستانی اسپنرز بھارتی ٹیم کے لیے سب سے بڑا خطرہ؟
بنگلہ دیشی شائقین کا کہنا ہے کہ اگرچہ آج ان کی اپنی ٹیم میچ نہیں کھیل رہی، لیکن وہ خاص طور پر پاکستان ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے کولمبو آئے ہیں۔
شائقین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہمیشہ شاندار کھیل پیش کرتی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس ورلڈ کپ میں بھی کامیابیوں کا سفر جاری رکھے، پاکستان ان کی دوسری ٹیم ہے اور وہ دل سے پاکستان کی کامیابی چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ 2026: میچز، گروپس اور شیڈول جاری
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی 20 ورلڈکپ کا شیڈول میچ 15 فروری کو کولمبو میں کھیلا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگلہ دیش بھارت پاکستان پاکستانی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ شائقین کولمبو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت پاکستان پاکستانی ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ کولمبو ورلڈ کپ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔