اڈیالہ جیل میں کسی کی بینائی چلی جائے تو اسکی ذمہ دار انتظامیہ اور حکومت پنجاب ہے، شاہ محمود قریشی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے لاہور میں انسداد دہشتگردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کا سن کر بہت دکھ ہوا، سوائے دعا کے کچھ نہیں کرسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے آنکھ کی خرابی پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے اگر اڈیالہ جیل میں کسی کی بینائی چلی جائے تو اس کی ذمہ داری جیل انتظامیہ اور حکومت پنجاب ہے۔ وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی آنکھ کا سن کر بہت دکھ ہوا، سوائے دعا کے کچھ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوقِ ہوتے ہیں، جو اس کو ملنے چاہیئے، یہ جیل انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، میاں محمود الرشید نے چیک اپ کے لیے اسپتال جانا تھا، نہیں جاسکے، جیل انتظامیہ کے گارڈ نہیں پولیس سکیورٹی نہیں ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد کا علاج بھی سکیورٹی نہ ہونے کی وجہ نہ ہوسکا، میرا علاج پی کے ایل آئی میں چل رہا ہے، سرجری سے بچ سکتا ہوں، ورنہ مجھے ایک اور سرجری کرانا پڑے گی، مجھے پولیس سکیورٹی نہ ہونے کی سے چیک اپ کے لیے پی کے ایل آئی اسپتال نہیں لے جایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں اس سارے معاملے کا قصوروار حکومت پنجاب کو ٹھہراتا ہوں، اڈیالہ جیل میں اگر کسی کی آنکھ کی بینائی چلی جائے تو اس کی ذمہ دار جیل انتظامیہ اور حکومت پنجاب ہے۔ وائس چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آپ لوگوں کو پہلے سولر پر لے کر آئے، لوگوں نے اپنی جمع پونجی سولر لگوانے پر لگا دی، اب جو پالیسی بنائی گئی ہے، اس پر وزیراعظم بھی بے بس نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) ایک شخص بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ کے بارے میں کہہ رہا کہ وہ مگر مچھ کے آنسو بہا رہی ہیں، مجھے بہت افسوس ہوا وہ بانی پی ٹی آئی کی بہن ہیں، اتنی بے حسی مناسب نہیں ہوتی یہ کسی کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی نے وائس چیئرمین جیل انتظامیہ حکومت پنجاب پی ٹی آئی کی ذمہ کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
راولپنڈی: بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو تنبیہ کی ہے کہ عمران خان سے ملاقات ہونے تک صوبے کا بجٹ منظور نہ ہونے دیں۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلی سہیل آفریدی نے علیمہ خان کے ساتھ فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کی۔ اس دوران سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنے کی بات کی تو علیمہ خان نے انہیں ٹوک دیا۔
علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ بجٹ پاس کیوں کر رہے ہیں؟ ان سے کہیں پہلے میری بانی سے ملاقات کروائیں‘۔
علیمہ خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پچھلے سال بھی کہا تھا میرے ساتھ بجٹ پر بات کرو ، آپ آج بھی ان سے کہیں بجٹ سے پہلے بانی سے ملاقات کرائیں ۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سارے لوگ ظلم کیخلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہا کیا گیا جو غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، ہمارا یہاں آنے کا ایک ہی مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشل منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بانی کا علاج انکی فیملی اور ذاتی معالج کی موجودگی میں ہو، ان کے مقاصد کچھ اور ہیں اس لئے یہ ملنے نہیں دے رہے۔ عید سے پہلے انہون نے ہمیں گیارہ گھنٹے تک روک کر عوام کو مصیبت میں ڈالا گیا
اُن کا کہنا تھا کہ مجھے اگر نہیں ملنے دیتے تو فیملی کو کم از کم ملنے دیا جائے، پاکستان تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی کا نام ہے، بانی نے جیل سے فیصلہ کیا کہ فلاں وزیر اعلیٰ نہیں ہو گا، بانی کے فیصلے کے بعد کوئی بھی طاقت اس کو نہیں بچا سکتی تھی۔
مزید پڑھیںاڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط نہ ہو سکے
علیمہ خان نے سابق آرمی چیف کی عمران خان سے ملاقات کی خبر کو بے بنیاد قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہو گا تو دنیا کی کوئی طاقت اس کو تبدیل نہیں کرسکتی، اڈیالہ جیل سے جب تک بانی کا کوئی نیا پیغام نہیں آئے گا میں ہی وزیر اعلیٰ رہوں گا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کے پی کی حکومت فقط بانی پی ٹی ہی ختم کر سکتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کام کوئی نہیں کرسکتا، صوبے میں فارورڈ بلاک پروپیگینڈا ہے اور یہ اس لئے کیا گیا وفاقی بجٹ میں ایک بار پھر عوام کا خون چوسا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی و بیرونی قرضے 97 ارب تک پہنچ چکے، حکومت ٹیکس کے اہداف پورے نہیں کر سکی اور آج حکومت میں شامل پارٹیاں عوام کا نہیں سوچ رہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کا تجارتی خسارہ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، میری تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ بانی کے علاج کیساتھ اس بجٹ پر فوکس رکھیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کے پی حکومت نے کابینہ سے بجٹ پیپر پاس کر دیا ہے اور ہم نے کوئی سرپلس بجٹ نہیں دیا، اس سال بھی عوام دوست بجٹ پیش کیا جائے گا۔ ہمارا سارا فوکس صحت تعلیم زراعت نوجوان اور جنگلات پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنے بجٹ میں بہت اچھی اور عوام دوست چیزیں لا رہے ہیں، وفاقی بجٹ کا اثر سارے صوبوں بشمول گلگت بلتستان پر پڑے گا۔