پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج کا دن پی ٹی آئی کیلئے بڑا اہم دن ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سلمان صفدر کی رپورٹ سے قوم پریشان اور سراپا احتجاج ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل وقاص اکرم شیخ نے کہا ہے کہ پارٹی کی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے سکتی ہے۔ پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ آج کا دن پی ٹی آئی کے لئے بڑا اہم دن ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سلمان صفدر کی رپورٹ سے قوم پریشان اور سراپا احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنکھ کے معائنے کے دوران فیملی کی عدم موجودگی سے تکلیف پہنچی ہے اور کتابوں کے حوالے سے ڈاکٹرز کی رائے لینے کی بات سے بھی تکلیف پہنچی ہے، 24 گھنٹے ہونے کے باوجود عدالت نے کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ آنکھ کے علاج کے دوران اہلخانہ کی موجودگی ضروری ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے تکلیف پہنچنے کے باوجود فیصلہ قبول ہے۔ یہ ایک ناقابل سزا جرم ہے، جس کی سزا صوبائی اور وفاقی حکومت کو ضرور ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے صحت کارڈ کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو صحت سہولیات دیں، لیکن بانی پی ٹی آئی کو تین ماہ تک آنکھ کے قطروں پر رکھا گیا، یہ سب بانی پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں بلکہ عوام کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کا فوری طور پر ذاتی معالج سے علاج کروایا جائے اور وزیر جیل خانہ جات کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیئے۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی ختم ہونے کی ذمہ دار یہ فارم 47 کی حکومت ہے، ایک جیلر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ایک سابق وزیراعظم کا علاج نہ کروائے۔

کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لے جانے کے بعد وہاں داخل نہیں کروایا جا سکتا، یہ حکومت اپنے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ملک بھر میں احتجاج ہو رہا ہے اور قوم نماز جمعہ میں بانی پی ٹی آئی کے لیے دعا کرے، یہ حکمران ایک عذاب کی صورت میں عوام پر مسلط ہوچکے ہیں لیکن بانی پی ٹی آئی نواز شریف کی طرح عوام کو انگوٹھا دکھا کر جانے والے نہیں۔ کور کمیٹی کے اجلاس میں تمام اراکین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور امید ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم نامہ جلد جاری ہوگا۔کے پی حکومت بانی پی ٹی آئی کی تصویر کی مرہون منت ہے، بانی پی ٹی آئی کی تکلیف پر صوبے کے عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔ کسی بھی وقت اسلام آباد مارچ کا اعلان کرسکتے ہیں، کیونکہ کور کمیٹی اجلاس میں اراکین نے اسلام آباد مارچ کی رائے بھی دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے کسی رکن کو کوئی شکایت نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی شیخ وقاص اکرم پی ٹی آئی کے اسلام آباد نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف