بنگلادیش کا وہ حلقہ جہاں خواتین نے 56 برس بعد ووٹ کاسٹ کیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلادیش میں ہونے والے عام انتخابات میں جہاں تاریخی تبدیلی دیکھی گئی وہیں کچھ حیران کن واقعات بھی دیکھنے کو ملے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش میں ہونے والے 13ویں عام انتخابات کے موقع پر ایک یونین میں ایسا منظر دیکھا گیا جو 56 برسوں سے کہیں کھو گیا تھا۔
آج اس یونین میں معمول کے برخلاف پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کی بڑی تعداد صبح سویرے ہی پہنچ گئی تھی۔
اس حیران کن تبدیلی کو مقامی انتظامیہ اور الیکشن کمیشن حکام نے اہم ترین سماجی تبدیلی کی علامت قرار دیا ہے۔
1969 کے بعد طویل بائیکاٹ
یہ قصہ 1969 کا ہے جب ایک مقامی سماجی و مذہبی فیصلے کے تحت اس یونین میں خواتین کو ووٹ نہ ڈالنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
جس کے بعد سے اس یونین میں خواتین نے کبھی انتخابات میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کیا تھا۔
یہاں تک کہ 1971 میں بنگلادیش کے قیام اور اس کے بعد بھی خواتین کسی الیکشن میں گھر سے نہ نکلیں۔
حالانکہ آئینی طور پر ملک کے دیگر علاقوں کی طرح اس یونین کی خواتین کو بھی رائے دہی کا حق حاصل رہا ہے۔
گزشتہ برسوں میں الیکشن کمیشن، مقامی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی جانب سے متعدد آگاہی مہمات چلائی گئیں تاکہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جا سکے۔
جس کا فائدہ اس بار ہو ہی گیا اور پہلی مرتبہ مقامی سطح پر اتفاقِ رائے پیدا ہوا اور خواتین نے الیکشن میں بھرپور شرکت کی۔
اس موقع پر پولنگ اسٹیشنز کے باہر خوشی اور جوش و خروش کا ماحول دیکھا گیا۔ ایک 70 سالہ خاتون نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے زندگی میں پہلی بار ووٹ ڈالا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔