data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد:مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عیدالفطر کے بعد پورے ملک میں عوامی مہم شروع کی جائے گی، جبکہ عالمی سطح پر حکومتی فیصلوں اور مبینہ امن بورڈ اجلاس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 19 فروری کو ہونے والا مبینہ امن بورڈ اجلاس دراصل اقوام متحدہ کو بائی پاس کرنے کی کوشش ہے اور اس سے عالمی ادارے کی افادیت چیلنج ہو رہی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ایسے فورمز میں شرکت کر کے متنازع قوتوں کو تقویت دے رہی ہے اور کہا کہ اگر حکمران بیرونی دباؤ پر فیصلے کریں گے تو عوامی ردعمل سامنے آئے گا۔ انہوں نے 12 مارچ کو مردان میں جلسے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری رہے گی۔

مولانا فضل الرحمان نے خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک، خصوصاً افغانستان اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی ضرورت ہے، خطے میں امن کے لیے ہمسایوں سے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں عراق میں فوج بھیجنے سے انکار کیا گیا تھا، اس لیے آج بھی ایسے فیصلوں سے گریز ممکن ہے۔

دوسری جانب حافظ نعیم الرحمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ امن بورڈ اجلاس، جس سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام جوڑا جا رہا ہے، تشویش کا باعث ہے، آیا حکومت کسی ایسے فورم میں شرکت کر رہی ہے جس میں اسرائیل بھی شامل ہو، اور اگر ایسا ہے تو اس کی وضاحت کی جائے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کسی بین الاقوامی فورس میں پاکستانی دستوں کی شمولیت کی کوشش کی جا سکتی ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، پاکستان کو ایسی جنگ یا تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہیے جس سے ملک کو کوئی فائدہ نہ ہو۔

رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ سیاسی و عوامی رابطہ مہم کے ذریعے اپنے مؤقف کو عوام تک پہنچایا جائے گا اور حکومت کی خارجہ و سلامتی پالیسیوں پر عوامی دباؤ بڑھایا جائے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان