گنداواہ سمیت علاقے میں امن و امان تشویشناک ہو چکی ہے، ایم ڈبلیو ایم بلوچستان
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اپنے بیان میں ترجمان ایم ڈبلیو ایم بلوچستان نے کہا کہ گنداواہ کے شہری، سرکاری ملازمین اور معزز افراد کے گھروں تک محفوظ نہیں رہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے ترجمان نے جھل مگسی کی تحصیل گنداواہ میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کے گورنمنٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ظفر احمد آرائیں کے گھر پر نامعلوم مسلح ڈاکوؤں کی جانب سے گھس کر اہلِ خانہ کو یرغمال بنانے اور اسلحہ کے زور پر ڈکیتی کی واردات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے جاری بیان میں ترجمان نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گنداواہ سمیت پورے علاقے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔ جہاں شہری سرکاری ملازمین اور معزز افراد کے گھروں تک محفوظ نہیں رہے۔ مجلس وحدت مسلمین بلوچستان مطالبہ کرتی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے مؤثر اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ ترجمان نے کہا کہ ہم متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس صدمے سے محفوظ رکھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ