اٹھارہ ارب کی کمائی، چالیس ارب کی لوٹ!
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
دنیا کی معیشت اس وقت ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ یہ دور آزاد تجارت کا نہیں بلکہ ہر ملک اپنی منڈی کو بچانے کے لیے قوانین بدل رہا ہے۔ یہاں تک کہ ترقی یافتہ ممالک بھی اپنی منڈی کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سخت امتحان کا دور ہے کیونکہ پاکستان کی معیشت پہلے ہی درآمدی بن چکی ہے۔
درآمدی ایندھن، درآمدی مشینری، درآمدی خام مال یہاں تک کہ درآمدی فوڈز پرکھڑی ہے۔ عالمی منڈی میں ذرا سی بھی جنبش پاکستان کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، اگر عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں یا تجارتی پابندیاں سر اٹھانے لگیں تو پاکستان اسے سب سے زیادہ محسوس کرتا ہے،کیونکہ پاکستان کی برآمدات سے دگنی تو درآمدات ہو چکی ہیں۔ حالیہ بیرونی تجارت کے اعداد و شمار دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کس مقام پر کھڑا ہے۔
جولائی تا جنوری 2026 ان 7 ماہ میں پاکستان کی کل برآمدات 18 ارب 19 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز اور درآمدات 40 ارب 23 کروڑ30 لاکھ ڈالرز کے اعداد و شمار ہی حکومت کو چونکا دینے کے لیے کافی ہیں۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستانی معیشت بے یقینی کا شکار ہے۔ دنیا کے بازار میں اب وہی ملک زندہ رہ سکتا ہے جو اپنی بنیاد مضبوط کرے،کیونکہ تجارت اب صرف تجارت نہیں بلکہ سیاست بن چکی ہے اور سیاست میں ہمیشہ کمزور معیشت قربانی کا بکرا بنتی ہے۔ تجارت خارجہ کے یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم عالمی منڈی میں داخل ہی نہیں ہوئے بلکہ دروازے پر کھڑے ہیں۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان اب بھی درآمدی غلامی کے پنجرے میں ہے۔ برآمدی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان اب بھی اپنی ہی فرسودہ پالیسیوں کی قید میں ہے۔ ہم ہر وقت خود سے یہی پوچھتے ہیں کہ ڈالر کہاں سے آئے گا؟ جب کہ ہم ڈالر کمانے کا ہنر نہیں جانتے اور ڈالر خرچ کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں۔ ان 7 ماہ کی برآمدات اور درآمدات سے صاف ظاہر ہے 7 ماہ میں 18 ارب ڈالر کی برآمدات کو اگر ہم امید کی شمع قرار دیتے ہیں تو 40 ارب ڈالر کی درآمدات کو طوفان سمجھنا چاہیے اور شمع طوفان کے سامنے کب تک ٹھہر سکتی ہے۔ یہی وہ سوال ہے جسے کچھ لوگ معیشت کے کاغذ پر لکھتے ہیں لیکن یہ قوم کے مستقبل پر لکھا ہے۔
یہ وہ سوال ہے جو وزیر کے بیان سے نہیں غریب کے چہرے پر نظر آ رہا ہے، اگر پاکستان نے اپنی برآمدات کو طاقت نہ دی، اپنی صنعتوں کو سہارا نہ دیا، اپنی پالیسیوں کو وقت کے تقاضوں پر نہ ڈھالا تو دنیا تو چال چل چکی ہے۔ ایک طرف بھارت، یورپ تجارتی معاہدہ ہو گیا اور پاکستان کا جی ایس پی پلس کا مستقبل خطرے میں پڑگیا، بھارت کو امریکی تجارت میں مراعات مل گئیں، وہ 18 فی صد ٹیرف پر آگیا اور پاکستان زیادہ پر ہی ہے۔ اپنے گھر سے اصلاح کرنا ہوگی، کیوں کہ دنیا آج تجارت کی نئی جنگ میں داخل ہو چکی ہے۔
امریکا اپنی صنعت بچانے کے لیے ٹیرف بڑھاتا ہے۔ ایسے میں پاکستان جیسے ملک کے لیے برآمدات بڑھانا آسان نہیں۔40 ارب ڈالر کی درآمدات یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ وہ دروازہ ہے جو ہم نے اپنی کمزور برآمدات کے سامنے کھول دیا ہے۔ ہم کیا منگواتے ہیں، تیل جس کی ہمیں ضرورت ہے جو ہماری گاڑیوں میں جلتا ہے، مشینریاں جو صنعت کے لیے ضروری ہیں مگر ہماری صنعتیں اتنی بڑھ نہیں رہیں جتنی ہمیں ضرورت ہے۔ موبائل فون کیونکہ بہت سے لوگ ہر وقت خوابوں کی دنیا میں کھوئے رہنا چاہتے ہیں اس کا درست اور مناسب استعمال کے لیے درآمد کرنا ضروری ہے لیکن غیر ضروری استعمال کے لیے بھی درآمد کیے جاتے ہیں، کہیں قیمتی موبائل فون کو بچوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ مغرب کے طور طریقے سیکھیں، نتیجہ کیا نکل رہا ہے اور پھر ہم کہتے ہیں کہ بچے نافرمان ہو رہے ہیں اور اولڈ ہاؤس آباد ہو رہے ہیں۔
کھانے پینے کی اشیا بڑی مقدار میں درآمد کر رہے ہیں، اپنی زراعت کو اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہونے دیتے۔یہ بڑھتی ہوئی درآمدات جوکہ کچھ غیر ضروری بھی ہیں غذائی درآمدات، فرنیچر، اعلیٰ اقسام کی سینیٹری کا سامان، سامان آرائش، قیمتی سے قیمتی لگژری گاڑیاں، صرف نام و نمود کی خاطر قیمتی سے قیمتی موبائل فون، بیش قیمت گھڑیاں، ان سب کو خرید کر ہم ڈالر کا خون کرتے ہیں کیونکہ ہم کماتے کم ہیں اور ڈالر خرچ زیادہ کرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہماری معیشت کی کوئی کل سیدھی کیوں نہیں ہوتی۔ 7 ماہ میں پاکستان نے 18 ارب ڈالر کی کمائی تو کر لی لیکن 40 ارب ڈالر کی درآمدات سے ایسا معلوم دے رہا ہے کہ ان ملکوں نے لوٹ سیل لگا رکھی ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عالمی منڈی میں ارب ڈالر کی کہ پاکستان رہا ہے کے لیے چکی ہے ہیں کہ
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز