Express News:
2026-07-24@13:33:05 GMT

شہنشاہ غزل

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

لاہور میں ایک مشاعرہ برپا تھا۔ فیض احمد فیض صاحب صدر محفل تھے۔ آخر میں دعوت کلام دی گئی تو انھوں نے اپنی چند شاندار غزلیں‘ سامعین کے سامنے پیش کیں۔ لوگ‘ فیض کی شاعری پر سردھن رہے تھے۔ اچانک‘ فرمائش کی گئی کہ جناب اپنی مشہور غزل ‘’’گلوں میں رنگ بھرے‘ باد نوبہار چلے‘‘تو سنائیے۔ فیض صاحب‘ یکدم خاموش ہو گئے۔

مائک پر کہنے لگے یہ درست ہے کہ یہ غزل میں نے لکھی ہے، پر جب سے مہدی حسن نے اسے گایا ہے یہ سخن تو صرف ان کا ہی ہو چکا ہے۔ لہٰذا اگر آپ یہ سننا چاہتے ہیں ‘ تو اس عظیم گلوکار سے سنئے جنھیں مہدی حسن کہا جاتا ہے۔ جناب اس وقت ‘ فیض صاحب کے اس کلام کی بدولت‘ مہدی حسن ‘ شہرت کی بلندیوں پر تھے ۔کمال کے غزل گو۔ ایسا بے مثال گائک ‘ جس کی مثال نہیں ملتی۔ انھیں’’ شہنشاہ غزل‘‘بھی کہا جاتا ہے۔

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ جے پور ریاست میں 1927 میں پیدا ہونے والا یہ بچہ‘ موسیقی کو اس سطح پر پہنچا دے گا‘ کہ اس کے بعد غزل کے معنی ہی بدل جائیں گے۔ مہدی حسن ایک ‘ موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان کلونت گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ کہا جاتا تھا کہ تقریباً سولہ پشتوں سے یہ لوگ موسیقی سے وابستہ تھے۔ راجے ‘ مہاراجے اور بادشاہ ان کا دم بھرتے تھے۔ متعدد شاہی خاندان‘ ان کے خاندان سے موسیقی کی تعلیم لیتے تھے جن میں نیپال کے بادشاہ بھی شامل تھے۔ مہدی حسن کو موسیقی ورثہ میں ملی تھی۔ مگر اس کو پختہ سے پختہ تر کرنے میں ان کی ذاتی محنت شامل تھی۔ صرف چھ برس کی عمر میں‘ مہدی حسن نے موسیقی ترتیب کرنی شروع کر دی تھی۔ مگر باضابطہ طور پر آٹھ برس کی عمر میں ان کے والد اور چچا نے انھیں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم دینی شروع کر دی۔

والد کا نام استاد عظیم خان اور چچا کا نام استاد اسماعیل خان تھا۔ دونوں‘ دھرپت رنگ میں گاتے تھے۔ مہدی حسن نے صرف آٹھ برس کی عمر میں ’’نواب آف برودا‘‘ کے دربار میں گانا سنایا۔ اور سب کو مسحور کر کے رکھ دیا۔ دس برس میں ‘ مہدی حسن نے کلاسیکی موسیقی کے ہر رنگ کو اپنے اندر سمو لیا۔ خیال ‘ دھادرا‘ ٹھمری اور دھرپت پر مکمل عبور حاصل کرلیا۔ بٹوارے سے پہلے‘ مہدی حسن اور ان کے بھائی پنڈت غلام قادر‘ مختلف درباروں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہتے تھے۔یہ وہ دور تھا جس میں گلوکاروں کو دربارکی سرپرستی حاصل تھی۔اب نا وہ دربار رہے اور نہ ہی وہ قدر دان۔ بہر حال استاد عظیم خان نے اپنے بیٹوں کو بہت سخت کوش بنا ڈالا تھا۔ صرف موسیقی کی تعلیم ہی نہیں‘ جسمانی ورزش بھی تربیت کا حصہ تھی۔ مذہب کی طرف خاص میلان تھا۔ عظیم خان کہا کرتے تھے کہ اچھا گانے کے لیے انسان کو طاقتور جسم کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ ایک بار‘ انھوں نے مہدی حسن کو تقریباً پچاس گھنٹے مسلسل ریاض کروایا۔

تقسیم ہند کے بعد‘ مہدی حسن اور ان کا خاندان ساہیوال کے ایک گاؤں میں منتقل ہو گیا۔ مالی حالات بہت کمزور تھے۔ چنانچہ مجبوری میں اس نے سائیکلوں کی ایک دکان پر کام کرنا شروع کر دیا۔ ساتھ ساتھ کار اور ٹریکٹر کو ٹھیک کرنے کا کام بھی جاری کر دیا۔ ایک عظیم گلوکار ‘ پیٹ کے دوزخ کو بھرنے کے لیے گاڑیاں‘ سائیکلیں اور ٹریکٹر ٹھیک کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مگر اس ہنگام میں بھی وہ اپنے اصل جوہر کو نہ چھپا پایا۔ گانے کی مشق مسلسل جاری رہی۔ 1952 میں ‘ مہدی حسن‘ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئے۔

یہاں انھیں‘ زیڈ اے بخاری اور رفیق انور جیسے جہاندیدہ لوگوں کی سرپرستی مل گئی۔ 1956 میں مہدی حسن نے فلموں کے لیے گانا شروع کر دیا۔ پہلی فلم کا نام تھا ’’شکار‘‘۔ اس گانے کے بول ‘ یزدانی جالندھری نے لکھے تھے اور دھن اصغر علی کی ترتیب کی ہوئی تھی۔ بول کچھ یوں تھے۔ ’’نظر ملتے ہی دل کی بات کا چرچہ نہ ہو جائے‘‘۔ مگر ان کی اصل شہرت 1964 میں فیض صاحب کی غرل ’’گلوں میں رنگ بھرے‘‘ سے شروع ہوئی۔ اس کی دھن رشید عطرے نے ترتیب دی تھی۔ اس غزل کے لازوال شعر اور مہدی حسن کی جادوئی آواز نے قیامت برپا کر ڈالی۔ ہر جگہ اس کے چرچے شروع ہو گئے۔ ہر شہر‘ قصبہ‘ محلہ‘ اور کوچہ میں مہدی حسن کی آواز گونجنے لگی۔ غزل اور آواز دونوں امر ہو گئے آج بھی اسے سنا جائے تو انسان پر کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

اپنے پورے کیریئر میں مہدی حسن نے ‘ تین سو سے زیادہ فلموں کے گانے اور غزلیں گائیں۔ انھوں نے غزل کو اس سطح پر پہنچا دیا‘ کہ گائیکی کا ایک نیا اسلوب قائم ہوگیا۔ اگر ان کے شاگردوں کی فہرست دیکھی جائے۔ تو وہ بھی خاصی طویل ہے۔ پرویز مہدی سے لے کر ہری ہرن‘ اور طلعت عزیز سے لے کر اسرار حسین تک‘ ان گنت گلوکار ہیں جنہوں نے باقاعدہ موسیقی ان سے سیکھی۔ شاگردوں کی لسٹ تو ایک طرف مہدی حسن نے طبلہ اور دیگر ساز بجانے والوں کو بھی مشہور کر ڈالا۔ جس نے بھی ان کے ساتھ کام کیا‘ شہرت اس کا نصیب بن گئی۔ استاد تاری خان‘ طبلہ نواز‘ آج بھی مہدی حسن کی سنگت کی بدولت بلند مقام پر فائز ہے۔

1977 میں مہدی حسن ہندوستان گئے تو وہاں ایک محفل میں لتا منگیشکر بھی تھیں۔ خان صاحب کی آواز سن کر ان کے الفاظ تھے ’’کہ ایسا لگتا ہے کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بول رہا ہے‘‘۔یہ لافانی جملہ لتا جیسی عظیم گلوکارہ نے کبھی کسی اور کے لیے نہیں کہا۔ پاکستان کا کوئی ایسا اعزاز نہیں جو اس گلوکار کو نہیں ملا۔ نشان امتیاز‘ تمغہ امتیاز‘ ہلال امتیاز‘ اور پرائڈ آف پرفارمنس ان میں شامل ہیں۔ دس مرتبہ انھیں نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ 1979 میں ہندوستان میں انھیں کے ایل سہگل ایوارڈ دیا گیا۔ 1983 میں نیپال کی حکومت نے’’گورکھا دکھشنا باہو‘‘ عطا کیا۔ اس کے علاوہ متعدد ممالک نے ان کی عزت افزائی کی۔ یہاںایک بات عرض کرنی ضروری ہے۔ مہدی حسن جیسے باکمال گائک اکثر اوقات اپنے فن کو شاگردی کی شکل میں تقسیم نہیں کرتے۔ بلکہ اسے اپنے آپ اور خاندان تک مقید رکھتے ہیں۔مگر خان صاحب نے یہ روایت بھی توڑ دی۔ انھوں نے متعدد شاگرد بنائے۔ انھیں موسیقی سکھائی‘ اور ان لوگوں نے بھی خوب نام پیدا کیا۔ چند شاگردوں کا ذکر تو میں پہلے بھی اس کالم میں کر چکا ہوں۔

ہر عروج کو زوال ہے۔ مہدی حسن پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا ہو گئے۔ ہندوستان گئے ہوئے تھے۔2000 کی بات ہے۔ کیرالہ میں انھیں فالج کا حملہ ہوا۔ واپس پاکستان آئے۔ 2005 میں آیوویدک علاج کے لیے دہلی چلے گئے۔ وہاںانتہائی تندہی سے ان کا علاج کیا گیا۔ دلیپ کمار‘ لتا جی اور واجپائی نے ان کا خاص خیال رکھا۔ واپس پاکستان آئے تو 2012 میں فالج کا دوسرا حملہ ہوا اور 13جون کو وہ مدھر آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ ہمارے ملک میں مہدی حسن کی سطح کا دوسرا غزل گو گائک آج تک ناپید ہے۔

ذمے داری سے عرض کر رہا ہوں کہ غزل کے اشعار کی درست ادائیگی اور رچاؤ بھرنا‘ ان کے علاوہ کسی اور کا کام ہے ہی نہیں۔ وہ سرکا بادشاہ تھا اور اسی لیے اسے شہنشاہ غزل کا درست خطاب دیا گیا تھا۔ عرض کرتا چلوں کہ مجھے موسیقی سننے کا کافی شوق ہے ۔ خصوصاً اچھی غزل تو بڑی چاہ سے سنتا ہوں۔ بیگم اختر ‘ فیض آبادی اور کے ایل سہگل کی آوازوں کو کمال گردانتا ہوں۔ میری اسٹڈی میں کتابوں کے علاوہ اگر کچھ موجود ہے تو صرف خوبصورت غزلوں کی باز گشت۔ اس کے علاوہ کچھ بھی پسند نہیں ہے۔ مگر ان دو کے علاوہ‘ جس آواز کو میں غزل کے رنگ میں گردانتا ہوں وہ صرف اور صرف مہدی حسن ہے۔

آج کل موسیقی کا کیا عالم ہے۔ یہ کس مرحلہ سے گزر رہی ہے۔ کم از کم مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ اس لیے کہ نئے گانے والوں کو سننے کا اتفاق کم ہی ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں سے چند اچھے گانے والے بھی ہوں مگر وثوق سے نہیں عرض کر سکتا۔ کہ آج کل‘ کون بہتر گا رہا ہے۔ دراصل نئے گانے والے‘ آواز کے زور پر نہیں گاتے‘ بلکہ وہ جدید آلات کی بدولت‘ گلوکار بننے کی کوشش کرتے ہیں۔اب تو ایسے ایسے موسیقی کے آلات موجود ہیں ‘ جو آواز ہی کو بدل ڈالتے ہیں۔ اس میں تغیر پیدا کر دیتے ہیں۔ گونج سامنے آ جاتی ہے۔ مگر سر میں جان نہ ہو‘ ریاض نہ ہو‘ تو خالی آلات آواز کو دائمی نہیں بنا سکتے۔

ویسے ایک دوبار تو ایسے لگا کہ گلوکار یا گلوکارہ باقاعدہ گانے کی جگالی فرما رہے ہیں۔ چلیئے، اس پر کیا بات کرنی۔ جدید موسیقی سے مجھے کوئی شغف ہے ہی نہیں۔ مہدی حسن کے بعد‘ غلام علی نے بھی بہت بہتر انداز سے غزل کا حق پورا کیا ہے۔ کسی کی دل آزاری نہیں کر رہا۔ مہدی حسن جیسی ریاضت کرنا اور پھر حد درجہ محنت سے لفظوں کی ادائیگی کرنا‘ ہر خاص و عام کے بس کی بات نہیں۔ خواتین میں اقبال بانو نے غزل کی عزت میں اضافہ کیا ہے۔ ان کا ذکر نہ کرنا ‘ نا انصافی ہو گی۔ موسیقی کو تھوڑا ساسمجھتاہوں۔ مہدی حسن کے مقام پر‘ کوئی بھی نہیں پہنچ سکا۔ خدا‘ اپنی مخلوق کو تخلیق کرتے وقت‘ آواز کا جادو بہت ہی کم بانٹتا ہے۔ مہدی حسن کو یہ جادوئی آواز ‘ خالق کی طرف سے عطا ہوئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مہدی حسن کی انھوں نے فیض صاحب کے علاوہ کے لیے ہو گئے غزل کے

پڑھیں:

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔

یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا

اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔

ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔

خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔

وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔

زیارت کیوں بھیجا گیا

اصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔

شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔

تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔

کراچی، وہ بھی ستمبر میں

اب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔

اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔

ایمبولینس کا قصہ

اب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟

اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔

یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے

مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟

میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔

کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائد

ہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔

سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔

حرفِ آخر

صاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔

مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔

ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔

میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی

متعلقہ مضامین

  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • پاپ کوئین میڈونا کی شاندار واپسی، ’کنفیشنز 2‘ بل بورڈ 200 پر نمبر ون
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف