سندھ ترقی پسند پارٹی نے آج کے جلسے کی تیاریاں مکمل کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ ترقی پسند پارٹی نے آج حیدرآباد یوم مادر وطن جلسے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ سندھ ترقی پسند پارٹی جلسے میں شرکت کے لیے جلوس کی شکل میں حیدرآباد پہنچے گی۔حیدرآباد میں ہٹڑی بائی پاس کے قریب سندھ ترقی پسند پارٹی (ایس ٹی پی) کی جانب سے والا بڑا میدان (آج) تیار کیا گیا ہے، جبکہ 150 فٹ لمبا اور 80 فٹ چوڑا اسٹیج بھی بنایا گیا ہے۔ جلسے کی صدارت پارٹی چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی کریں گے اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی معروف شخصیات، ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، صحافیوں اور سماجی رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے۔ تقریب کے دوران مدر لینڈ ڈے ایوارڈز بھی دئیے جائیں گے جبکہ احمد مغل، دیبا سحر، رجب فقیر اور دیگر فنکار راگ رنگ میلے میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ جلسے میں شرکت کے لیے سندھ بھر سے بڑی تعداد میں قافلے حیدرآباد پہنچ رہے ہیں۔ پارٹی چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی نے اپنے بیان میں کہا کہ محبت کے عالمی دن پر ہم اپنی مادر وطن سندھ سے محبت، وفا اور جدوجہد کی تجدید کریں گے۔ سندھ کی وحدت، وسائل اور تشخص کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ جلسہ نہ صرف سیاسی اجتماع ہوگا بلکہ قومی یکجہتی، خودمختاری اور حقوق کے تحفظ کا نیا عزم بھی ہوگا۔ سندھ کے باشعور عوام ثابت کریں گے کہ وہ اپنی سرزمین، زبان اور ثقافت کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور آج کا دن ملک دشمن قوتوں کو واضح پیغام جائے گا کہ سندھ چوکنا، متحد ہے اور اپنے قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ترقی پسند پارٹی کریں گے کے لیے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔