سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.6 ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
کراچی: سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج صبح زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جنہوں نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے شہر جیکب آباد، قمبر شہدادکوٹ، سکھر، دادو، میہڑ اور ان کے گردونواح میں شہریوں نے شدید جھٹکے محسوس کیے جبکہ بلوچستان کے جھل مگسی، جعفرآباد، سبی، کچھی، نصیرآباد، گنداوہ اور خضدار میں بھی زلزلے کے اثرات ریکارڈ کیے گئے۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق زلزلے کے جھٹکے صبح 11 بج کر 30 منٹ پر ریکارڈ کیے گئے اور شدت ریکٹر اسکیل پر 5.
شہریوں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے ایک سے زیادہ مرتبہ محسوس کیے گئے، زلزلے کے جھٹکوں کا دورانیہ دس سے پندرہ سیکنڈز تک تھا۔
زلزلہ پیمامرکز کا کہنا ہے کہ زلزلے کے اچانک جھٹکوں کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے باہر نکل آئے۔
رپورٹ کے مطابق زلزلے سے تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مقامی انتظامیہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔
ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ صورتِ حال پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اب تک کسی ایمرجنسی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری گھبراہٹ میں مبتلا نہ ہوں، افواہوں سے گریز کریں اور آفیشل ذرائع سے فراہم کی جانے والی معلومات پر ہی انحصار کریں، زلزلے کے بعد ہنگامی احتیاطی تدابیر اختیا کریں۔
یاد رہے کہ اس سے قیل بھی خضدار میں 10 بج کر 52 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے کے مطابق کیے گئے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔