مشرف کالونی میں ایک ہی خاندان کے 3افراد قتل ، دیگر واقعات میں3 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )سعید آباد تھانے کی حدود مشرف کالونی کا کو آغا کالونی میں فائرنگ کے واقعہ میں ایک خاندان کے تین افراد جاں بحق ہوگئے، ایک خاتون زخمی ہوگئی۔دیگر واقعات میں3افراد جاںبحق ہوگئے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ ذاتی دشمنی کے باعث ہوا ہے۔جاں بحق ہونے والوں میں ایک میاں، بیوی اور ان کا بیٹا شامل ہیں۔ جاں بحق افراد کی شناخت 60 سالہ عابد علی، 50 سالہ مریم زوجہ عابد علی ، بیٹا 20 سالہ زوہیب کے نام سے ہوئی ہے۔مقتول عابد، جو ایک ڈرائیور تھا اور مانسہرہ کا رہائشی تھا، اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ فائرنگ کے دوران عابد کی سالی 35سالہ فاطمہ زوجہ قدیر زخمی ہوئی، جو گھر میں مہمان آئی ہوئی تھی۔زخمی خاتون کے مطابق، حملہ آور مقتول عابد کا ہم زلف دانش تھا، جس کے ساتھ عابد کے بیٹی کے معاملے پر تنازع تھا۔ پولیس کے مطابق مقتول عابد نے اپنی ایک بیٹی کو دانش کے حوالے کیا تھا، جس پر دونوں کے درمیان اختلافات بڑھ گئے تھے۔ملزم دانش مقتول عابد کی بیٹی علینہ کو ساتھ لے گیا،عینی شاہدین کے مطابق، ملزم دانش کو فائرنگ کے بعد عابد کے گھر سے فرار ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں مرنے والوں کی لاشوں اور زخمی کو ضابطے کی کارروائی کیلئے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی طور پر فائرنگ کا واقعہ دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، کرائم سین یونٹ کو جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا۔مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں ذاتی دشمنی کی بنا پر واردات کی توقع کی جا رہی ہے، تاہم تحقیقات مکمل ہونے پر مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان بازار تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن کے علاقے عبداللہ بن مسجد کے قریب ایک گھر سے 16 سالہ نیہا دختر لیاقت کی لاش لٹکی ہوئی ملی۔ پولیس نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے لاش کو اسپتال منتقل کر دیا اور مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ خودکشی کا معاملہ لگتا ہے، تاہم پولیس تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کر رہی ہے۔ سائٹ بی تھانے کی حدود شیر شاہ میزان بینک کے قریب ٹریفک حادثہ ایک شخص 25سالہ ورن ولدکانتی جاں بحق ہوگیا ۔متوفی کی لاش کو سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ۔جمشید کواٹر تھانے کی حددجہانگیر روڈ نزد ٹوٹل پمپ کے قریب روڈ کے کنارے سے25سالہ نوجوان کی لاش ملی ، متوفی کی لاش کو متعلقہ تھانے سے ضابطہ کی کاروائی کے بعد لاش ایدھی ھوم سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔ دوسری جانب موچکو تھانے کی حدود رئیس گوٹھ میں 30 سالہ شہزاد ولد عطا محمد کو نامعلوم وجوہات پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا۔ سچل سمیرا سوسائٹی میں ایک 40 سالہ شخص کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا۔ زخمی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، اور پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ فائرنگ کا محرک کیا تھا۔ بن قاسم تھانے کی حدود پورٹ قاسم چورنگی کے قریب 20 سالہ دانیال ولد رحیم کو ذاتی تنازعہ کی وجہ سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ دانیال کو فوری طور پر جناح اسپتال اسپتال منتقل کیا گیا، اور پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ نیو کراچی تھانے کی حدود نارتھ کراچی اسلامیہ کالونی کے سیکٹر 11-E دھوبی گارڈ گراونڈ کے قریب گھر میں اتفاقیہ گولی چلنے سے 15 سالہ حمزہ ولد محمود زخمی ہو گیا۔ زخمی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، اور پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ یہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔ سپر ہائی وے پر DHA سٹی کے قریب ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک مرد اور ایک خاتون جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپتال منتقل کر دیا منتقل کر دیا گیا تھانے کی حدود مقتول عابد فائرنگ کے فائرنگ کا کر رہی ہے کے مطابق میں ایک کے قریب کی لاش
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔