کراچی سپرہائی وے پر آئل ٹینکراور مسافربس میں تصادم، 13 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260214-01-13
کراچی(اسٹاف رپورٹر)کراچی حیدرآباد موٹروے ایم 9 پر کاٹھور کے مقام پر 5 گاڑیوں کے تصادم کے نتیجے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق ایم نائن سپر ہائی وے انصاری پل کے قریب 4 تیز رفتار گاڑیاں اور مسافر بس مال بردار ٹرک سے ٹکرا گئیں۔پولیس کے مطابق حادثہ گڈاپ لنک روڈ پر ٹرک اور کوچ کے درمیان پیش آیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوچ غلط سمت پر جارہی تھی۔حادثے میں ایک مسافر بس، ایک مال بردار ٹرک جبکہ کم از کم 3 کاریں ٹکرائیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی جبکہ 10 موقع پر جاں بحق ہوئے جبکہ حادثے میں متعدد افراد پل سے نیچے بھی گرگئے۔حادثے کے بعد ریسکیو 1122، چھیپا اور ایدھی کے رضاکار جائے وقوع پہنچے جہاں انہوں نے امدادی کام سرانجام دیے۔امدادی حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ مزید اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق مال بردار ٹرک الٹنے کی وجہ سے ڈیزل سڑک پر پھیل گیا تھا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔آئی جی سندھ جاویدعالم اوڈھو نے پولیس کو فوری طور پر جائے حادثہ پہنچنے کی ہدایت کی اور جائے حادثہ و اطراف کے علاقے کو فوری طور پر محفوظ بنانے کا حکم دیا۔دوسری جانب گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ اورصوبائی وزیر داخلہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔
کراچی:سپرہائی وے پر آئل ٹینکر اور بس میں تصادم کے باعث الٹنے والے ٹینکر کو کرین کے ذریعے اٹھایا جارہاہے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔