data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن /لندن /غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی ہائی کورٹ نے اسرائیلی مظالم کے خلاف موثر اُٹھانے والی متحرک تنظیم فلسطین ایکشن کے حق میں بڑا فیصلہ دیدیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطین ایکشن نامی سرگرم تنظیم پر برطانوی حکومت نے پابندیاں عاید کی تھیں جس پر گروپ نے عدالت سے رجوع کیا۔ جس پر 3 رکنی بینچ نے طویل سماعت کے بعد جمعے کو فیصلہ سناتے ہوئے میں کہا کہ فلسطین ایکشن پر حکومتی پابندی غیر قانونی تھی‘ تنظیم کی سرگرمیوں میں دہشت گردی کا تاثر نہ ہونے کے برابر تھا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ حکومتی پابندی سے آزادیٔ اظہار رائے اور پُرامن اجتماع کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عدالت نے عندیہ دیا کہ وہ وزیرِ داخلہ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا حکم جاری کرے گی تاہم برطانوی عدالت نے واضح کیا کہ حکومت کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے اس لیے قانونی عمل مکمل ہونے تک تنظیم پر فی الحال پابندی برقرار رہے گی۔برطانوی وزیرِ داخلہ نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گی‘ فلسطین ایکشن پر پابندی ایک جامع اور شواہد پر مبنی عمل کے بعد لگائی گئی تھی جس کی پارلیمان نے توثیق بھی کی تھی۔عدالتی فیصلے پر فلسطینی پرچم لہرائے اور کفایہ اسکارف پہنے کارکنان نے خوشی کا اظہار کیا، نعرے بازی کی اور ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے تعمیرِ نو منصوبے اور اقوام متحدہ کی منظوری سے ایک بین الاقوامی استحکامی فورس تعینات کرنے کا اعلان کریں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو توقع ہے کہ اگلے ہفتے ’’امن کونسل‘‘ کے افتتاحی اجلاس میں کم از کم 20 وفود شرکت کریں گے، جہاں جنگ سے تباہ حال غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اربوں ڈالرز کے عطیات اور علاقے کی سیکورٹی کے لیے قائم کی جانے والی بین الاقوامی استحکام فورس کے لیے ہزاروں فوجیوں کا عہد کیا جائے گا۔ امریکی حکام نے ذکر کیا کہ ٹرمپ 19 فروری کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہونے والے اس اجلاس میں، جس کی صدارت وہ خود کریں گے، کئی ممالک کی جانب سے استحکام فورس کے تحت ہزاروں فوجیوں کی روانگی کا اعلان کریں گے۔ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے ایلچی وٹکوف کی سربراہی میں ایک ٹیم نے جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کو ایک جدید اور ترقی یافتہ شہر میں بدلنے کی تجویز کا مسودہ تیار کیا ہے، جہاں بلند و بالا عمارات اور تفریحی مقامات ہوں گے۔ تاہم اس منصوبے کو اب بھی کئی پیچیدگیوں کا سامنا ہے،اسی طرح تعمیرِ نو کے منصوبے، ان کی فنڈنگ کے طریقے اور حماس تنظیم کے ہتھیار ڈالنے کا معاملہ بھی تاحال رکاوٹوں کا شکار ہے۔ غزہ میں اسرائیلی افواج کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 2 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔شمالی مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ تلفیت پر آباد کاروں کی دہشت گردی کے نتیجے میں 25 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ معلومات مقامی اور طبی ذرائع نے جمعے کو فراہم کیں۔فلسطینی ریڈ کراس نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ حملے کے دوران براہِ راست فائرنگ سے ایک شخص زخمی ہوا جبکہ 2 افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر زخمی کیا گیا۔ قصبہ تلفیت کی کونسل کے سربراہ محمود ابو عیشہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آباد کاروں اور قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے قصبے پر کیے گئے ان حملوں کے نتیجے میں شہریوں کے زخمی ہونے کی مجموعی تعداد 25 تک پہنچ گئی ہے‘ آباد کاروں نے 10 گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے عاید کردہ سخت ترین پابندیوں کے باوجود ہزاروں فلسطینیوں نے مسجدِ اقصیٰ مبارک اور اس کے صحنوں میں ماہِ شعبان کے آخری جمعہ کی نماز ادا کی۔ افواج نے صبح کے اوقات سے ہی مقبوضہ بیت المقدس کے گرد ونواح میں قائم فوجی چوکیاں اور ناکے لگا کر نمازیوں کی آمد پر سخت پہرے بٹھا دیے تھے اور قدیم شہر کے اطراف سمیت مسجد کے دروازوں پر لوہے کی رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔ باب الساہرہ پر مسجد آنے والے نوجوانوں کو روک کر ان کی تلاشی لی گئی۔ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے دوران ہی مسلح آباد کاروں نے مسجدِ اقصی کے گرد ونواح میں واقع باب الاسباط کے سامنے ‘الغالی’ نامی میدان پر دھاوا بول کر اشتعال انگیزی کی۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے استعفا نہیں دیں گی۔الجزیرہ لائیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ ان کا ذاتی تعاقب کرنے کے بجائے ان کی ان رپورٹس پر بحث کریں جو انہوں نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے بارے میں پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل بحث کا محور رپورٹس کا مواد ہونا چاہیے نہ کہ ان کی ذات۔اقوام متحدہ کی مبصر نے وضاحت کی کہ غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی نسل کشی کی جنگ کی مذمت کرنے کی پاداش میں انہیں بدنامی کی مہم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مجھ پر ہونے والے حملوں کی مہم ان مظالم اور نسل کشی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جس کا سامنا فلسطینی کر رہے ہیں۔فلسطینی طبی عملے کے غزہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن حاتم ریان صحرائے نقب میں اسرائیل کے بدنامِ زمانہ حراستی مرکز میں انتقال کر گئے ہیں، یہ بات فلسطینی اتھارٹی کی جنرل اتھارٹی آف سول افیئرز نے جمعرات کو بتائی۔ کمیشن برائے امورِ اسیران و سابق اسیران اور فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی کے مطابق انہیں 27 دسمبر 2024ء کو گرفتاری کے بعد سے وہاں رکھا گیا تھا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطین ایکشن ا باد کاروں کی جانب سے عدالت نے نے والے کریں گے کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔

اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔

قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

 

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان