data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد، پشاور (نمائندہ جسارت+ مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد مسترد کردی گئی جس پر اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر عون عباس بپی نے ایوان میں بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد پیش کی جس کی حکومت کی جانب سے مخالفت کی گئی۔ قرارداد مسترد ہونے پر پی ٹی آئی سینیٹرز چیئرمین ڈائس کے سامنے جمع ہوگئے اور شدید احتجاج و نعرے بازی کی۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بانی پی ٹی آئی کی صحت پر بات کرنا چاہتے ہیں، آج اس پر بات کرنی ہے تو تحریک کیوں پیش کی جارہی ہے؟۔ سپریم کورٹ میں پیش کردہ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی لیونگ کنڈیشن پر چیزیں کلئیر ہوگئی ہیں، سلمان صفدر نے رپورٹ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں سیکورٹی پر مطمئن ہیں۔اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ آنکھ کی بینائی ایک دم سے ختم نہیں ہوسکتی، رانا ثناء اللہ کو جو لکھ کر دیا گیا انہوں نے وہ پڑھ کر سنا دیا، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے لاپروائی ہوئی ہے، جن ڈاکٹروں سے چیک اپ کروایا گیا وہ اس کے ماہر ہی نہیں تھے، ان کے وکلاء اور اہلخانہ کو کیوں مطلع نہیں کیا گیا؟۔راجا ناصر عباس نے کہا کہ کسی جرنیل، بیوروکریٹ یا جج کو جیل میں نہیں دیکھا، صرف سیاستدان جیلوں میں ہوتے ہیں، ہمیں کہیں سے تو واپس جانا پڑے گا، بیرسٹر سلمان کی رپورٹ میں جو لکھا ہے ان کی صحت کے حوالے سے وہ پڑھیں، تسلیم کریں کہ غلطی ہوئی ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکتوبر 2025 میں بانی پی ٹی آئی کی بینائی بالکل ٹھیک تھی، پھر اچانک بانی پی ٹی آئی کی نظر چلی گئی، یہ وہ شخص ہے جس کا علاج نہیں کروایا جارہا جس نے غریبوں کیلیے کینسر اسپتال بنایا۔نوازشریف کی بیماری پر بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا ان کو تمام طبی سہولیات دی جائیں، بانی پی ٹی آئی نے صرف اعلان نہیں کیا بلکہ نوازشریف کو جیل میں تمام سہولیات بھی دلوائیں۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں، قید میں شخص انسان کو علاج معالجے کی سہولتیں ملنی چاہییں، یہ استدلال بنایا جارہا ہے کہ بیمار شخص بہت مشہور و معروف ہے، لہٰذا اس مبالغے میں ایک کردار تخلیق کرلیا جاتا ہے اور افسانے گھڑے جاتے ہیں، وہ ایک سزایافتہ مجرم ہے جس کو بددیانتی اور خیانت کے جرم میں عدالتوں سے سزا ہوچکی ہے۔پرویز رشید نے کہا کہ اگر قیدی کی بیماری پر یہ سیاست کریں گے تو پھر قیدی کو نقصان ہوگا، اس کی صحت کو نقصان ہوگا، نہ ہم لاشوں کی سیاست ہونے دیں گے نہ بیماری پر سیاست ہونے دیں گے۔ پرویز رشید کی تقریر پر پی ٹی ا?ئی ارکان نے احتجاج شروع کردیا۔جے یو آئی کے سینیٹر عبدالشکور نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی روایات کیخلاف گیا ہے یہ اس کا سب سے بڑا جرم ہے، بلوچستان اسمبلی کے 90فیصد لوگ فارم 47 سے آئے ہوئے ہیں، بلوچستان کے 75 فیصد لوگوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔قبل ازیںپی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے احتجاج کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی جبکہ مرکزی بھی گیٹ بند کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ گیٹ کے باہر بکتر بند گاڑیاں پہنچا دی گئیں جبکہ اسلام آباد ریڈ زون کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری ریڈیو پاکستان چوک پر جمع ہوگئی، ریڈیو پاکستان چوک سے شاہراہ دستور کو مکمل بند کر دیا گیا۔پولیس کی جانب سے کسی بھی شہری اور ممبر اسمبلی کو پارلیمنٹ ہاؤس جانے نہیں دیا جا رہا۔ پولیس نے ممبر اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو ریڈیو پاکستان چوک پر روک لیا۔پی ٹی رہنماء احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ تک پہنچ گئے۔ گیٹ بند ہونے کے باعث پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز باہر نہ نکل سکے۔ اپوزیشن لیڈر نے پارلیمنٹیرینز کو باہر نکلنے سے روکنے پر احتجاج کیا۔اپوزیشن اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے کے اندر ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دے دیا اور ایوان صدر کو جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گئے، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی, اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی بھی دھرنے میں بیٹھ گئے۔پارلیمنٹ ہاؤس میں لائٹس بند کردی گئیں۔پی ٹی آئی قیادت اندھیرے کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر آکر بیٹھ گئی اور عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے بازی کرتی رہی۔قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنا پْرامن ہوگا، بانی پی ٹی آئی سے ان کے ذاتی معالج اور فیملی کی ملاقات کروائی جائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو ان کی مرضی کے کسی اسپتال منتقل کیا جائے۔محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کی صحت سے متعلق پیشرفت کی جاتی ہے تو یہ دھرنا منتشر ہو جائے گا، اگر ایسا نہ ہوا تو وقت کے ساتھ مزید مطالبے بھی شامل ہوتے چلے جائیں گے، اس حکومت کی اتنی غلطیاں ہیں کہ پھر دھرنے ہی دھرنے ہوں گے۔جبکہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ساتھ رویہ خطرناک بات ہے، اس سے نفرتیں اتنی بڑھ جائیں گی کہ کوئی سنبھالنے والا نہیں ہوگا۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں کے پی ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہاں روکا جا رہا ہے آگے نہیں دیا جارہا، وہ لوگ کوئی وجہ نہیں بتاتے بس اوپر سے انہیں ایک حکم آ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے وزرا کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا گیا ہے، ان کے گریبان پھاڑے گئے ہیں، میرے مطابق یہ رویہ درست نہیں ہے، ہمارے خیبرپختونخوا اور پنجاب کے اراکین اسمبلی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میرے ساتھ کسی حکومتی عہدیدار کی جانب سے رابطہ نہیں کیا گیا، کورٹ کے آرڈرز ہیں کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ملنے دیا جائے اور ان کا ٹھیک علاج ہو، پوری دنیا کو پتا چل گیا ہے کہ عمران خان کے ساتھ جیل میں کیا رویہ رکھا گیا ہے۔علاوہ ازیںپاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل وقاص اکرم شیخ نے کہا ہے کہ پارٹی کی قیادت کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے سکتی ہے۔پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ آج کا دن پی ٹی آئی کے لیے بڑا اہم دن ہے، بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سلمان صفدر کی رپورٹ سے قوم پریشان اور سراپا احتجاج ہے۔انہوں نے کہا کہ آنکھ کے معائنے کے دوران فیملی کی عدم موجودگی سے تکلیف پہنچی ہے اور کتابوں کے حوالے سے ڈاکٹرز کی رائے لینے کی بات سے بھی تکلیف پہنچی ہے، 24 گھنٹے ہونے کے باوجود عدالت نے کوئی تحریری حکم نامہ جاری نہیں کیا۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی ختم ہونے کی ذمہ دار یہ فارم 47 کی حکومت ہے، ایک جیلر کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ایک سابق وزیراعظم کا علاج نہ کروائے۔ کیا بانی پی ٹی آئی کو اسپتال لے جانے کے بعد وہاں داخل نہیں کروایا جا سکتا، یہ حکومت اپنے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے۔انکا کہنا تھا کہ کسی بھی وقت اسلام آباد مارچ کا اعلان کر سکتے ہیں کیونکہ کور کمیٹی اجلاس میں اراکین نے اسلام آباد مارچ کی رائے بھی دی ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سے کسی رکن کو کوئی شکایت نہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ بانی پی ٹی ا ئی بانی پی ٹی ا ئی کی صحت میں بانی پی ٹی ا ئی کی کی صحت سے متعلق پارلیمنٹ ہاو س کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے اسلام ا باد کر دیا گیا کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے نہیں کیا کہا کہ ا ہاو س کے جیل میں گیا ہے

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی