Jasarat News:
2026-07-24@01:26:45 GMT

ناکام معاشی پالیسیوں کے باعث ملک قرض تلے آچکا ہے

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور(نمائندہ جسارت ) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کے باعث ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبتا جا رہا ہے۔ مرکزی حکومت کے قرضوں میں سالانہ 11 فیصد اور ماہانہ 1.

4 فیصد اضافہ انتہائی تشویشناک ہے، جس کے نتیجے میں مرکزی حکومت کا قرضہ 49.8 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 55.4 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی قرضہ بھی خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ دسمبر 2025 میں بیرونی قرضہ سالانہ 6 فیصد اور ماہانہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ 23.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ مرکزی حکومت کا مجموعی قرضہ سالانہ 9.6 فیصد اور ماہانہ 1.3 فیصد اضافے کے بعد 78.5 ٹریلین روپے کی سطح عبور کر چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ اعدادوشمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکمران طبقہ ملک کو معاشی استحکام دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ بیرونی قرضہ ڈالرز میں بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ دسمبر 2025 میں مرکزی حکومت کا بیرونی قرضہ 82.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ نومبر 2025 میں یہ 81.7 ارب ڈالر اور جون 2025 میں 82.5 ارب ڈالر تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں میں یہ اتار چڑھاؤ دراصل معاشی کمزوری اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا نتیجہ ہے۔ حکمران قرض لے کر عارضی ریلیف دکھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس کا بوجھ عوام پر مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔

نمائندہ جسارت گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مرکزی حکومت ٹریلین روپے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف