حکومت اسلام آباد سانحہ کے سرپستوں کو بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچائے، علامہ شبیر میثمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
احتجاج سے خطاب میں ایس یو سی کے کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ سانحہ ترلائی دشمنانِ اتحاد کی کارستانی ہے جو ان کارروائیوں سے وطن عزیز پاکستان میں اتحاد اُمت کو پارہ پارہ کر کے مملکت خداداد کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کی اپیل پر وفاقی دارالحکومت، چاروں صوبوں پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور کشمیر و گلگت بلتستان سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سانحہ جامع مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبری ترلائی اسلام آباد میں خودکش دھماکے کیخلاف نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے، ریلیاں، سیمینار و دیگر پروگرامز کا انعقاد کیا گیا جبکہ کراچی میں مرکزی مظاہرہ قرآن سینٹر کے باہر منعقد ہوا جس میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ شبیر حسن میثمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اسلام آباد سانحہ کی شفاف غیر جانبدارنہ تحقیقات کرے اوردہشتگردوں کے سرپستوں کو بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچائے۔
ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ترلائی دشمنانِ اتحاد کی کارستانی ہے جو ان کارروائیوں سے وطن عزیز پاکستان میں اتحاد اُمت کو پارہ پارہ کر کے مملکت خداداد کو ایک بار پھر فرقہ واریت کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں، پاکستان کے عوام نے آج ملی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے یکجا ہو کر ملک بھر میں ظلم کیخلاف صدائے احتجاج بلند کر کے ثابت کر دیا کہ پاکستان کے عوام یکجا ہیں اور مٹھی بھر شر پسند دہشت گرد اور ان کے سہولت کار اس اتحاد امت کو پارہ پارہ نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر شیعہ علما کونسل پاکستان کے مرکزی، صوبائی، ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل کے رہنماؤں اور علماء کرام نے شہدا کے درجات کی بلندی، سوگوار خانواد وں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کے
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔