سندھ حکومت کی نااہلی :کراچی میں بدترین ٹریفک جام معمول ،ترقیاتی کام بھی عذاب بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260214-08-33
کراچی (رپورٹ /واجد حسین انصاری) شہر میں ٹریفک جام کی بدترین صورتحال سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی کی 18 سالہ حکمرانی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، حکومت سندھ کی نااہلی نے ترقیاتی کاموں کو بھی عوام کے لیے عذاب بنادیا ہے۔بغیر کسی منظم منصوبہ بندی کے شروع کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے شہر قائد کے مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام سے روزانہ لاکھوں افراد متاثر ہورہے ہیں۔ متبادل ٹریفک پلان نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ سنگین صورت حال اختیار کرگیا ہے لیکن حکومت سندھ کے کانوں میں جوں نہیں رینگ رہی ہے۔ سندھ اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل ہنگامی بنیادوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے اقدامات نہ کیے تو پورا شہر جام ہونے کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق شہر میں جاری مختلف ترقیاتی منصبوں کے سلسلے میں کھدائی کی وجہ سے بدترین ٹریفک جام ہورہا ہے۔صفورا اور کراچی یونیورسٹی ،حسن اسکوائر ،جیل روڈ سے صدر کی طرف جانے والی مین روڈ ،لیاقت آباد اور تین ہٹی سے گرومندر جانے والی مین سڑک اور کارساز سے اسٹیڈیم ،حسن اسکوائر لیاقت آباد ،ناظم آباد جانے والے روڈ سمیت دیگر ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام کا سلسلہ جاری ہے۔ٹریفک جام میں ایمبولینس ،فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور اسکولوں کی گاڑیاں بھی پھنس جاتی ہیں۔صبح کے اوقات میں دفاتر جانے والے وقت مقررہ پر دفاتر نہیں پہنچ پاتے ہیں۔اسی طرح شام کے اوقات میں دفاتر سے واپس گھروں کو جان والے لوگ ٹریفک جام کی وجہ سے کئی کئی گھنٹوں بعد گھر پہنچتے ہیں۔سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے شہر میں جاری ٹریفک جام کی بدترین صورتحال کے حوالے سے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی منظم منصوبہ بندی کے شہر قائد میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوںمیں ٹریفک جام کی بدترین صورتحال ہے جس کی وجہ سے روزانہ لاکھوں افراد متاثر ہورہے ہیں، متبادل ٹریفک پلان نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرگیا ہے۔ لیکن حکومت سندھ کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، مختلف ترقیاتی منصوبوں کے سلسلے میں کی گئی کھودائی کی وجہ سے شہر میں بدترین ٹریفک جام ہورہا ہے۔ محمد فاروق نے کہا کہ کراچی کی مین شاہراہوں پر بدترین ٹریفک جام کا سلسلہ جاری ہے، جس میں ایمبولینسز، فائربریگیڈ اور اسکولوں کی گاڑیاں پھنس جاتی ہیں جبکہ صبح کے اوقات میں دفاتر جانے والے لوگ وقت مقرر پر دفاتر نہیں پہنچ پاتے۔ اسی طرح شام کے اوقات میں دفاتر سے گھروں کو واپس جانے والے لوگ بدترین ٹریفک جام کی وجہ سے کئی کئی گھنٹوں بعد بمشکل گھروں کو پہنچ پاتے ہیں۔ ٹریفک جام کے حوالے سے حکومت سندھ اور اس کے متعلقہ ادارے، ٹریفک انجینئرنگ بیورو اور ٹریفک پولیس سمیت دیگر ادارے ٹریفک جام کے حوالے سے کوئی متبادل اور مربوط ٹریفک پلان نہیں دے سکے۔ محمد فاروق نے کہا کہ کراچی کے میگا ترقیاتی منصوبے تاحال نامکمل ہیں اور کوئی کوریڈور نہیں بنایا گیا جس سے ٹریفک باآسانی گزر سکے۔ اس صورتحال کے باعث ٹریفک جام کے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ سندھ حکومت نچلی سطح تک اختیارات منتقل کرنے سے گریزاں ہے جس کے باعث شہر کاانفرا اسٹرکچر تباہ ہورہا ہے۔ محمد فاروق نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کی آمد میں صرف چند روز رہے گئے ہیں، اگر حکومت نے رمضان المبارک سے قبل ٹریفک جام کی صورتحال سے شہریوں کو بچانے کے لیے مربوط ٹریفک پلان تشکیل نہ دیا او ر ہنگاموں بنیادوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو انتہائی سنگین صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور شہر جام ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ سندھ اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان المبارک کے پیش نظر ترقیاتی کاموں کو عارضی طور پر بند کرکے ٹریفک کا متبادل نظام تشکیل دیا جائے‘ ٹریفک پولیس کی بھاری نفری تعینات کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پورا شہر بند ہونے کا خدشہ ہے جس کی تمام تر ذمے داری سندھ حکومت عاید ہوگی۔ سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم پاکستان کے پارلیمانی لیڈر افتخار عالم نے کہا کہ شہر قائد پہلے ہی مسائل کا انبار ہے جو حکومت کی نااہلی کا ثبوت ہے‘ حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت شہر میں سب سے بڑا مسئلہ بدترین ٹریفک جام کا ہے،جب سے شہر میں کیمرے لگائے گئے ہیں اس کے بعد سے ٹریفک پولیس کہیں نظر نہیں آتی اور نہ ہی ٹریفک وارڈنز کہیں نظر آتے ہیں جہاں اندھیرا ہوتا ہے وہاں چور اْچکے ٹریفک جام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چھینا جھپٹی کی وارداتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ شہر میں جاری ٹریفک جام کی صورت حال کا فوری نوٹس لیا جائے اور ٹریفک کا کوئی مربوط نظام تشکیل دیا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکرٹری جنرل سردار عبدالرحیم نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹریفک جام کی صورت حال سنگین ہوتی جا رہی ہے‘ شہری ذہنی اذیت اور مشکلات کا شکا رہیں،سردار عبدالرحیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رمضان المبارک سے قبل شہر کے ٹریفک نظام کو بہتر بنایا جائے اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقداما ت کیے جائیں۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر میں بگڑتی ہوئی ٹریفک صورتحال سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی اٹھارہ سالہ حکمرانی کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ، جہانگیر روڈ اور ایم اے جناح روڈ سمیت شہر کی اہم شاہراہیں جگہ جگہ کھودی جا چکی ہیں، مگر متبادل راستوں یا ٹریفک مینجمنٹ کا کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا۔ پانچ سے 10منٹ کا سفر گھنٹوں میں طے ہو رہا ہے اور شہری شدید ذہنی اذیت اور مشکلات کا شکار ہیں۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ رمضان المبارک کی آمد قریب ہے مگر سندھ حکومت کے پاس شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے کوئی واضح اور جامع ٹریفک پلان موجود نہیں۔ مقدس مہینے میں عوام کو سہولت فراہم کرنے کے بجائے انہیں اذیت میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سندھ حکومت ای چالان اور دیگر مدات کی آڑ میں شہریوں سے کروڑوں روپے بٹور رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ٹریفک جیسے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میں بدترین ٹریفک جام کے اوقات میں دفاتر کہ رمضان المبارک ترقیاتی کاموں کرتے ہوئے کہا محمد فاروق نے ٹریفک جام کی ٹریفک جام کا سندھ اسمبلی سندھ حکومت حکومت سندھ ٹریفک پلان جانے والے کی وجہ سے نے کہا کہ حوالے سے انہوں نے سندھ کے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔