ویلنٹائن ڈے تہوار کے نام پر بد تہذیبی ہے‘ مولانا عبد الماجد
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(پ ر) پاکستان امن کونسل سندھ، مرکزی علماء کونسل پاکستان سندھ کے صوبائی صدر، ملی یک جہتی کونسل صوبہ سندھ کے سینئر نائب صدر، مہتمم مدرسہ تعلیم القرآن، خطیب و امام جامع مسجد الخلیل بھٹائی آباد گلستان جوہر مولانا عبد الماجد فاروقی نے کہا ہے کہ مغربی تہذیب نے بہت سے بے ہودہ رسوم و رواج کو جنم دیا اور بدتہذیبی و بدکرداری کے نئے نئے طریقوں کو ایجاد کیا ہے جن میں سے ویلنٹائن نامی ڈے ایک بد تہذیبی تہوار بھی ہے جو 14فروری کو منایا جاتا ہے، اس دن کو یوم عاشقاں یا یوم ِ محبت کے نام سے منایا جاتا ہے اور تمام حدوں کو پامال کیا جاتا ہے بے حیائی اور بے شرمی کا مظاہرہ ہوتا ہے اور تہذیب وشرافت کے خلاف کاموں کو انجام دیا جاتا ہے، اس کی لپیٹ میں اس وقت پوری دنیا ہے اور بطور خاص مسلم معاشرہ اس کی فتنہ سامانیوں کا شکار ہوتا جارہا ہے حکومت اور والدین کو چاہیے کہ نئی نسل کو تباہی سے بچانے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائیں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مغربی خرافات ہماری نئی نسل اور ہماری مشرقی تہذیب کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جاتا ہے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔