کند ہم جنس باہم جنس پرواز
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
میں: مجھے تم سے ایک شکایت ہے۔
وہ: کوئی نئی بات کہو یہ شکوے شکایت، اعتراض وغیرہ تو تم ہر نشست ہی میں کرتے ہو، اسی لیے ہم نے اپنی گفتگو کا عنوان جوابِ شکوہ رکھا ہے۔ کہو آج کیا شکایت ہے؟
میں: کراچی کے ساتھ اتنا ظلم ہورہا ہے، ناانصافیاں ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں آرہیں۔ شاید ہی کوئی قلم کار ہو جس نے کراچی پر کچھ نہ لکھا ہو، مگر تم چپ سادھے بیٹھے ہو، کچھ تو کہو، کوئی تو آواز بلند کرو۔
وہ: میں ابھی تک اسی کشمکش میں ہوں اور یہ فیصلہ نہیں کرپا رہا کہ کراچی کی اس تباہی کا اصل ذمے ار کون ہے، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، فوجی اسٹیبلشمنٹ، صوبائی اور شہری حکومت کے محکمے یا ان کے انتظامی عہدوں پر فائز اعلیٰ افسران اور ان کے ماتحت وغیرہ وغیرہ۔
میں: میرے خیال سے یہ فیصلہ کرنا اتنا مشکل بھی نہیں، تم نے وہ مقولہ سنا ہے نا کہ پانی ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے، کیوں کہ یہ تمام عہدیداران، افسران، سیاسی اور بظاہر غیر سیاسی افراد تمام کے تمام بدعنوان اور بے ایمان ہیں تو ان کے نیچے کام کرنے والے اہلکارو ملازمین کیسے ایمان دار ہوسکتے ہیں۔ افسران وماتحتوں کے باہمی تعاون کی مدد سے یہ نظام برسوں سے بے ایمانی کے اصولوں پر پوری ایمانداری کے ساتھ چلایاجارہا ہے۔ اگر شہر کے کسی محلے میں پانی نہیں آرہا تو اس کا واضح مطلب صرف یہ ہے کہ اس علاقے کے افراد واٹر بورڈ کے ملازم کو جسے عرف عام میں لائن مین کہا جاتا ہے ماہانہ بنیادوں پر دس پندرہ ہزار روپے کی رشوت نہیں پہنچا رہے۔ اگر کوئی بے روزگار کسی بازار یا سڑک کے کنارے تین بائی چار فٹ کا فرنچ فرائز کا اسٹال لگانا چاہے تو اسے ہر ماہ سرکار کے کسی نمائندے کو بھتے یا رشوت کی شکل میں آٹھ دس ہزار روپے کا نذرانہ پیش کرنا ہوگا۔ اب وہ علاقہ کنٹونمنٹ کی حدود میں آتا ہو یا بلدیہ کی، کامیابی سے کاروبار کرنے کا اصول ایک ہی ہے۔ ’’آپ ہمارا خیال کریں ہم آپ کا خیال کریں گے‘‘۔ یہ تو بس دو بہت چھوٹی سی مثالیں ہیں ورنہ ہمارے اداروں کی بدعنوانیوں کی داستانیں تو اتنی طویل ہیں جنہیں رقم کرنے کے لیے شاید لاکھوں کروڑوں صفحات بھی کم پڑجائیں۔
وہ: خیر یہ معاملہ کسی ایک صوبے یا شہر تک محدود نہیں پورے ملک کی یہی صورت حال ہے۔ ویسے جہاں تک میں کراچی کے مسئلے کو سمجھا ہوں یہ کوئی آج کی بات نہیں، سندھ کی شہری اور دیہی آبادی کی بنیاد پر بھٹو کے نافذ کردہ کوٹا سسٹم سے لیکر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایم کیو ایم کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کراچی کی تباہی کا مشن سونپا گیا۔ جسے ایم کیو ایم نے اسٹیبلشمنٹ کو جوابدہ ایجنسیوں کے طفیل پوری ایمانداری سے نبھایا۔ ایم کیو ایم کے فاشزم سے پہلے کراچی ملک کا سب سے پڑھا لکھا، سمجھدار اور باشعور شہر تھا، ملک کے سیاسی، معاشی اور دیگر مسائل کی قائدانہ ترجمانی کیا کرتا تھا، بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ آزادی کے وقت ہجرت کر کے آنے والے اردو بولنے والے مہاجرین کی تہذیب، تعلیم، رہن سہن اور شعور کو دیکھ کر ہی یہاں کے مقامی افراد کو اپنے عادات واطوار اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کا خیال آیا۔ لیکن ایم کیو ایم نے بوری بند لاشوں، بھتا خوری اور معصوم شہریوں پر سرعام گولیوں کی بوچھاڑوں کا ایک نہ ختم ہونے والا ایسا سلسلہ شروع کیا جو کراچی والوں کی تہذیب، تعلیم اور شعورکو خس وخاشاک کی طرح بہا کرلے گیا۔ پھر اسلم کن کٹا اور راشد ٹی ٹی جیسے کردار اس شہر کی شناخت بن گئے۔ بھتے کی نہ رکنے والی پرچیوں سے تنگ آکر یہاں سے بے شمار مقامی اور بین الاقوامی کاروباری افراد اور صنعت کار اپنا بوریا بستر لپیٹ کر دوسرے صوبوں کے بڑے شہروں کی طرف کوچ کرگئے۔ کھربوں روپے مالیت کی اسٹیل ملز پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی بندر بانٹ کی بھینٹ چڑھنے کے بعد نذرِ خاک ہوگئی۔ بھتے کی رقم نہ دینے پر بلدیہ ٹائون کی فیکٹری میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو زندہ جلانے کا واقعہ جب بھی ذہن میں آتا ہے تو اپنوں کی سفاکی کا زخم پھر تازہ ہوجاتا ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ مجرم تمام ثبوت کے سامنے ہوتے ہوئے بھی زیر ِ دام نہ آسکے۔ پھر کہیں ایم کیو ایم اور کہیں پیپلز پارٹی سے جڑے اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ وہی نااہل کردار ہمارے اوپر ایک بار پھر مسلط کردیے گئے، اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ بدکردار اور نااہلوں کو ایمان دار، باکردار اور دیانت دار نہیں بلکہ اپنے ہی جیسے چوروں اور بے ایمانوں کی ضروررت ہوتی ہے۔ فارسی کا وہ مشہور ضرب المثل شعر تو تم نے سنا ہوگاؔ
کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر، قاز با قاز
میں: تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ کراچی کے مسئلے کی اصل ذمے دار ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ ہے؟
وہ: میرے دوست صرف کراچی ہی نہیں اس ملک کی تباہی وبربادی، معاشی بدحالی، امن وامان کی بدترین صورت حال اور برسوں سے جاری قانون کی مسلسل پامالی، غرض کے اس پورے کے پورے کرپٹ نظام کی مکمل ذمے دار اس ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے، اور اس جرم میں ہمارے سیاست دان اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں۔ ذرا غور کرو جس شہر میں 15 کے لگ بھگ بری فوج کی چھائونیاں، ائرفورس کے بیسز اور نیوی کی انسٹالیشنز ہوں وہاں ایک جماعت 30 سال سے زائد عرصے تک ہر قانون اور احتساب سے بالاتر ہوکر لوٹ مار، لاقانونیت اور قتل وغارت گری کرتی رہی اور عوام کے یہ محافظ چپ چاپ اس شہر کے اُجڑنے کا تماشا دیکھتے رہے۔ کسی صحافی نے کراچی کی ایک تقریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ صاحب سے ایک صنعت کار نے کراچی میں امن وامان کی ابتر صورت حال کے تناظر میں ان سے اُجڑتی ہوئی صنعتوں اور بدحال کاروبارکے حل کے حوالے سے کوئی حکمت عملی وضع کرنے کی بات کی تو باجوہ صاحب نے کہا کہ آپ کراچی کو چھوڑیں لاہور اور اسلام آباد میں کاروبار کریں، وہاں امن وامان بھی ہے اور مستقبل میںآگے بڑھنے کے مواقع بھی بہت ہیں۔ اس پر ظلم یہ ہے کہ کراچی کے شہری برسوں سے اپنی مجبوری اور محرومی کا تماشا دیکھ رہے ہیں اور اپنی مظلومی کا رونا رو رہے ہیں۔
میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ مسئلہ ظلم کرنے والوں کا نہیں جن کو برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی جائے معاملہ ظلم سہنے والوں کا ہے، جو مسلسل مظلوم بن کر ظالم کے ہاتھ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط کررہے ہیں۔ ہم کبھی کوئی ریلی نکال لیتے ہیں، کہیں کسی کونے کُھدرے میں کوئی چھوٹا موٹا مذاکرہ ہوجاتا ہے، کچھ تھوڑی دیر کے لیے پرجوش نعرے لگا کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں اور ان ریلیوں سے سڑکوں پر ٹریفک میں خلل پڑنے کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد ان ریلیوں کے منتظمین کو صلواتیں سناکر کسی اور رستے سے اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ بقول عباس رضویؔ
کچھ تو غم یہ ہے کہ بے چہرہ ہیں قاتل میرے
کچھ مرے شہر کا راضی بہ رضا ہونا ہے
خاک اُڑاتے ہوئے دن، اشک بہاتی راتیں
اور اس شہر میں کیا اس کے سوا ہونا ہے
شرَفِ عالم
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کراچی کے یہ ہے کہ نے والے ایم کی ملک کی
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔