Jasarat News:
2026-06-02@22:06:45 GMT

کند ہم جنس باہم جنس پرواز

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

میں: مجھے تم سے ایک شکایت ہے۔

وہ: کوئی نئی بات کہو یہ شکوے شکایت، اعتراض وغیرہ تو تم ہر نشست ہی میں کرتے ہو، اسی لیے ہم نے اپنی گفتگو کا عنوان جوابِ شکوہ رکھا ہے۔ کہو آج کیا شکایت ہے؟

میں: کراچی کے ساتھ اتنا ظلم ہورہا ہے، ناانصافیاں ہیں کہ ختم ہونے کو نہیں آرہیں۔ شاید ہی کوئی قلم کار ہو جس نے کراچی پر کچھ نہ لکھا ہو، مگر تم چپ سادھے بیٹھے ہو، کچھ تو کہو، کوئی تو آواز بلند کرو۔

وہ: میں ابھی تک اسی کشمکش میں ہوں اور یہ فیصلہ نہیں کرپا رہا کہ کراچی کی اس تباہی کا اصل ذمے ار کون ہے، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، فوجی اسٹیبلشمنٹ، صوبائی اور شہری حکومت کے محکمے یا ان کے انتظامی عہدوں پر فائز اعلیٰ افسران اور ان کے ماتحت وغیرہ وغیرہ۔

میں: میرے خیال سے یہ فیصلہ کرنا اتنا مشکل بھی نہیں، تم نے وہ مقولہ سنا ہے نا کہ پانی ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے، کیوں کہ یہ تمام عہدیداران، افسران، سیاسی اور بظاہر غیر سیاسی افراد تمام کے تمام بدعنوان اور بے ایمان ہیں تو ان کے نیچے کام کرنے والے اہلکارو ملازمین کیسے ایمان دار ہوسکتے ہیں۔ افسران وماتحتوں کے باہمی تعاون کی مدد سے یہ نظام برسوں سے بے ایمانی کے اصولوں پر پوری ایمانداری کے ساتھ چلایاجارہا ہے۔ اگر شہر کے کسی محلے میں پانی نہیں آرہا تو اس کا واضح مطلب صرف یہ ہے کہ اس علاقے کے افراد واٹر بورڈ کے ملازم کو جسے عرف عام میں لائن مین کہا جاتا ہے ماہانہ بنیادوں پر دس پندرہ ہزار روپے کی رشوت نہیں پہنچا رہے۔ اگر کوئی بے روزگار کسی بازار یا سڑک کے کنارے تین بائی چار فٹ کا فرنچ فرائز کا اسٹال لگانا چاہے تو اسے ہر ماہ سرکار کے کسی نمائندے کو بھتے یا رشوت کی شکل میں آٹھ دس ہزار روپے کا نذرانہ پیش کرنا ہوگا۔ اب وہ علاقہ کنٹونمنٹ کی حدود میں آتا ہو یا بلدیہ کی، کامیابی سے کاروبار کرنے کا اصول ایک ہی ہے۔ ’’آپ ہمارا خیال کریں ہم آپ کا خیال کریں گے‘‘۔ یہ تو بس دو بہت چھوٹی سی مثالیں ہیں ورنہ ہمارے اداروں کی بدعنوانیوں کی داستانیں تو اتنی طویل ہیں جنہیں رقم کرنے کے لیے شاید لاکھوں کروڑوں صفحات بھی کم پڑجائیں۔

وہ: خیر یہ معاملہ کسی ایک صوبے یا شہر تک محدود نہیں پورے ملک کی یہی صورت حال ہے۔ ویسے جہاں تک میں کراچی کے مسئلے کو سمجھا ہوں یہ کوئی آج کی بات نہیں، سندھ کی شہری اور دیہی آبادی کی بنیاد پر بھٹو کے نافذ کردہ کوٹا سسٹم سے لیکر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایم کیو ایم کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کراچی کی تباہی کا مشن سونپا گیا۔ جسے ایم کیو ایم نے اسٹیبلشمنٹ کو جوابدہ ایجنسیوں کے طفیل پوری ایمانداری سے نبھایا۔ ایم کیو ایم کے فاشزم سے پہلے کراچی ملک کا سب سے پڑھا لکھا، سمجھدار اور باشعور شہر تھا، ملک کے سیاسی، معاشی اور دیگر مسائل کی قائدانہ ترجمانی کیا کرتا تھا، بلکہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ آزادی کے وقت ہجرت کر کے آنے والے اردو بولنے والے مہاجرین کی تہذیب، تعلیم، رہن سہن اور شعور کو دیکھ کر ہی یہاں کے مقامی افراد کو اپنے عادات واطوار اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کا خیال آیا۔ لیکن ایم کیو ایم نے بوری بند لاشوں، بھتا خوری اور معصوم شہریوں پر سرعام گولیوں کی بوچھاڑوں کا ایک نہ ختم ہونے والا ایسا سلسلہ شروع کیا جو کراچی والوں کی تہذیب، تعلیم اور شعورکو خس وخاشاک کی طرح بہا کرلے گیا۔ پھر اسلم کن کٹا اور راشد ٹی ٹی جیسے کردار اس شہر کی شناخت بن گئے۔ بھتے کی نہ رکنے والی پرچیوں سے تنگ آکر یہاں سے بے شمار مقامی اور بین الاقوامی کاروباری افراد اور صنعت کار اپنا بوریا بستر لپیٹ کر دوسرے صوبوں کے بڑے شہروں کی طرف کوچ کرگئے۔ کھربوں روپے مالیت کی اسٹیل ملز پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی بندر بانٹ کی بھینٹ چڑھنے کے بعد نذرِ خاک ہوگئی۔ بھتے کی رقم نہ دینے پر بلدیہ ٹائون کی فیکٹری میں ڈھائی سو سے زائد افراد کو زندہ جلانے کا واقعہ جب بھی ذہن میں آتا ہے تو اپنوں کی سفاکی کا زخم پھر تازہ ہوجاتا ہے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ مجرم تمام ثبوت کے سامنے ہوتے ہوئے بھی زیر ِ دام نہ آسکے۔ پھر کہیں ایم کیو ایم اور کہیں پیپلز پارٹی سے جڑے اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ وہی نااہل کردار ہمارے اوپر ایک بار پھر مسلط کردیے گئے، اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ بدکردار اور نااہلوں کو ایمان دار، باکردار اور دیانت دار نہیں بلکہ اپنے ہی جیسے چوروں اور بے ایمانوں کی ضروررت ہوتی ہے۔ فارسی کا وہ مشہور ضرب المثل شعر تو تم نے سنا ہوگاؔ

کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر، قاز با قاز

میں: تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ کراچی کے مسئلے کی اصل ذمے دار ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ ہے؟

وہ: میرے دوست صرف کراچی ہی نہیں اس ملک کی تباہی وبربادی، معاشی بدحالی، امن وامان کی بدترین صورت حال اور برسوں سے جاری قانون کی مسلسل پامالی، غرض کے اس پورے کے پورے کرپٹ نظام کی مکمل ذمے دار اس ملک کی فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے، اور اس جرم میں ہمارے سیاست دان اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں۔ ذرا غور کرو جس شہر میں 15 کے لگ بھگ بری فوج کی چھائونیاں، ائرفورس کے بیسز اور نیوی کی انسٹالیشنز ہوں وہاں ایک جماعت 30 سال سے زائد عرصے تک ہر قانون اور احتساب سے بالاتر ہوکر لوٹ مار، لاقانونیت اور قتل وغارت گری کرتی رہی اور عوام کے یہ محافظ چپ چاپ اس شہر کے اُجڑنے کا تماشا دیکھتے رہے۔ کسی صحافی نے کراچی کی ایک تقریب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ صاحب سے ایک صنعت کار نے کراچی میں امن وامان کی ابتر صورت حال کے تناظر میں ان سے اُجڑتی ہوئی صنعتوں اور بدحال کاروبارکے حل کے حوالے سے کوئی حکمت عملی وضع کرنے کی بات کی تو باجوہ صاحب نے کہا کہ آپ کراچی کو چھوڑیں لاہور اور اسلام آباد میں کاروبار کریں، وہاں امن وامان بھی ہے اور مستقبل میںآگے بڑھنے کے مواقع بھی بہت ہیں۔ اس پر ظلم یہ ہے کہ کراچی کے شہری برسوں سے اپنی مجبوری اور محرومی کا تماشا دیکھ رہے ہیں اور اپنی مظلومی کا رونا رو رہے ہیں۔

میں: یعنی تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ مسئلہ ظلم کرنے والوں کا نہیں جن کو برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لی جائے معاملہ ظلم سہنے والوں کا ہے، جو مسلسل مظلوم بن کر ظالم کے ہاتھ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط کررہے ہیں۔ ہم کبھی کوئی ریلی نکال لیتے ہیں، کہیں کسی کونے کُھدرے میں کوئی چھوٹا موٹا مذاکرہ ہوجاتا ہے، کچھ تھوڑی دیر کے لیے پرجوش نعرے لگا کر اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں اور ان ریلیوں سے سڑکوں پر ٹریفک میں خلل پڑنے کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد ان ریلیوں کے منتظمین کو صلواتیں سناکر کسی اور رستے سے اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ بقول عباس رضویؔ

کچھ تو غم یہ ہے کہ بے چہرہ ہیں قاتل میرے
کچھ مرے شہر کا راضی بہ رضا ہونا ہے
خاک اُڑاتے ہوئے دن، اشک بہاتی راتیں
اور اس شہر میں کیا اس کے سوا ہونا ہے

شرَفِ عالم سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کراچی کے یہ ہے کہ نے والے ایم کی ملک کی

پڑھیں:

کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔

بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔

اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

مزید :

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے