کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی بلکہ وڈیروں کا تسلط ہے، حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ نااہلی، کرپشن اور حکومت کے نام پر وڈیروں کا تسلط ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے مقامی ہوٹل میں ”کراچی بدحالی سے بحالی تک“ کے عنوان سے”کراچی اسٹیک ہولڈرزراؤنڈ ٹیبل کانفرنس“سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بدترین حکمرانی، بد انتظامی، نا اہلی اور کرپشن ہے،سیاست و حکومت کے نام پر وڈیروں و جاگیرداروں کا تسلط ہے جو کراچی کے وسائل اور اداروں پر قابض ہیں، یہ قابض ٹولہ اب اہل کراچی کی آواز بھی دبانا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کراچی پر مزید 20سال بھی مسلط رہیں تو مسائل حل نہیں ہوں گے، جب تک ہم وڈیروں، جاگیرداروں اور حکمرانوں کے گٹھ جوڑ سے نجات حاصل نہیں کریں گے مسائل حل نہیں ہو سکتے، اسٹیبلشمنٹ کو بھی جواب دینا ہوگا جس نے کراچی کے عوام پر مسترد شدہ لوگوں کو مسلط کیا، بلدیاتی انتخابات میں عوامی مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اور میئر شپ کو چھینا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کا حق ہے کہ ان کو میگا سٹی حکومت دی جائے،18ویں ترمیم کے مطابق اختیارات و وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، آرٹیکل 140-Aکے تحت بلدیاتی اداروں کو مالی و انتظامی اختیارات دیئے جائیں، جماعت اسلامی کراچی کے حق، مسائل کے حل اور با اختیار شہری حکومت کے لیے 14فروری کو سندھ اسمبلی پر دھرنا دے گی، کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز ہمارے ساتھ مل کر جدو جہد و مزاحمت کریں اور سڑکوں پر آئیں تو کوئی حکومت و اسٹیبلشمنٹ ہمارا راستہ نہیں روک سکے گی اور کراچی کو اس کا حق دینا پڑے گا
۔راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، کراچی تاجر اتحاد کے صدر عتیق میر،ایس بی سی اے کمیٹی کے ممبر عارف قاسم،سابق سینئر نائب صدر فیڈریشن چیمبرآف کامرس سلمان چاولہ،سابق وائس پریزیڈنٹ چیمبر آف کامرس شبیر منشا، فباٹی کے صدر شیخ تحسین،فباٹی کے سابق صدر بابر خان،لکی ون مال کے سی ای او سعد زبیری، اربن پلانر انجینئر فرحت عادل،جنرل سیکریٹری کراچی پریس کلب اسلم خان، سی ای او گروسیف سعد عبد الوہاب،سینئر صحافی و جرنلسٹ منزہ صدیقی نے بھی خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ مسئلے کی تشخیص درست نہیں ہوگی تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ کراچی انفرااسٹرکچر سیس اور ڈویلپمنٹ بجٹ کے 3360 ارب روپے کراچی پر خرچ نہیں ہوئے، شہر کو ایسے اسٹیک ہولڈرز کی ضرورت نہیں جو اسٹبلشمنٹ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں، ڈھائی سال قبل کراچی کے شہریوں کی جانب سے جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ ووٹ دینے کے باوجود انتخابات پر ڈاکا ڈالااور میئر شپ بھی چھینی گئی، جس کی وجہ سے لوگوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔
مزید پڑھیںکراچی حیدرآباد موٹروے پر گاڑیوں میں تصادم، 13 افراد جاں بحق، انسانی اعضا بکھر گئے
کراچی میں بے رحم ڈاکوؤں نے ایک اور نوجوان کی جان لے لی
سندھ ہائیکورٹ کا نارتھ کراچی میں ابراہیم گوٹھ کی مسماری روکنے کا حکم
انہوں نے کہا کہ 55 ارب روپے کے بجٹ کے ساتھ جماعت اسلامی کا مئیر ہوتا تو کراچی کا یہ حال ہر گز نہیں ہوتا؟ جماعت اسلامی کے 9 ٹاونز میں سرکاری اسکول بحال اور پارکس بنائے گئے، سڑکوں کی مرمت کا کام کیا جارہا ہے۔ ہم اپنے حصے کا کام اختیار ات سے بڑھ کر کررہے ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ صوبے بنانے کے لیے زرداری، نواز شریف، ایم کیو ایم سے بات کر کے جتنے صوبے بنانے ہیں بنائیں عوام کو کیوں لڑوایا جاتا ہے، بلدیاتی نظام میں سب سے بہتر نظام 2001 والا تھا۔ موجودہ نظام میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سابقہ یوسیز کی بنیاد پر کام کررہا ہے اس ادارے کاٹاؤنز و ویوسیز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس اختیار نہیں ہے اس کے باوجود کام کروا رہے ہیں،ہم اپنی نسلوں کو برباد نہیں کرواسکتے، اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے لڑیں گے اور جدوجہد و مزاحمت کریں گے۔
عتیق میر نے کہا کہ کراچی میں کوئی بھی شعبہ یا حکومتی ادارہ ایسا نہیں جو بہتر کام کررہا ہو، ہم 17 سال سے آواز اُٹھا رہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ سندھ میں سیلاب آیا تو 95 فیصد سندھ ڈوب گیا کوئی پوچھنے والا نہیں، اب وقت آگیا ہے کہ جن لوگوں نے عذاب مسلط کیا ہے انہیں مجبور کیا جائے کہ اب کراچی کا حق دو یا پیچھے ہٹ جاؤ۔ عارف قاسم نے کہا کہ ہر ادارے میں کرپشن اور لوٹ مار ہے، مسئلہ ایتھکس کا ہے انجینئرنگ کا نہیں ہے۔
سلمان چاولہ نے کہا کہ مسائل سے زیادہ اس کے حل کے لیے بات کرنے کی ضرورت ہے، کراچی کا المیہ یہ ہے کہ اس کی کوئی اونر شپ لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔جماعت اسلامی کے شکر گزار ہیں جس نے شہر کے لیے آواز اٹھائی۔
شبیر منشا نے کہا کہ کراچی کے عوام جس اذیت کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں وہ سب کے سامنے ہے، ایک ہی شہر میں بہت سارے ادارے ہیں سمجھ نہیں آتا کہ کس کے پاس جاکر سوال کیا جائے؟ سب سے بڑا مسئلہ کراچی کی آبادی کا ہے جو ابھی تک درست گنی ہی نہیں گئی۔ کراچی میں بلڈنگز کا طوفان آرہا ہے اور سب بغیر کسی پلاننگ کے ہورہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے انہوں نے کہا کہ کہا کہ کراچی حافظ نعیم کراچی میں کراچی کے کراچی کا نہیں ہے کے لیے
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔