عمران خان کو جھوٹے مقدمے میں غیر قانونی طورپر قید کیا گیا، مستنصربلا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بلاجواز قید اور صحت کی سہولیات کے فقدان اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہ دینے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ڈاکٹر مستنصر بلا، ایڈووکیٹ اسلم لغاری، فیصل مغل اور دیگر نے نعرے لگائے۔ اس موقع پر رہنما ؤںکا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو جھوٹے مقدمے میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر قید کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے موجودہ حکمران ڈر رہے ہیں کہ عمران خان باہر آکر ہم سے اقتدار چھین لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نہ چور ہے نہ ڈاکو، عمران خان پاکستان کے حقیقی لیڈر اور لیڈر ہیں جو لٹیروں کے خلاف اقدامات کرنے پر جیلوں میں بند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران کو جیل میں علاج سمیت بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقاتیں نہیں ہو رہی جو کہ توہین عدالت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو جیل میں علاج سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں اور رہا کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ کہ عمران
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :