حیدرآباد:ڈکیتی مزاحمت پر زخمی نوجوان دوران علاج چل بسا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے والا حیدرآباد کا رہائشی نوجوان سول اسپتال میں ایک ہفتے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔ مقتول کے ورثاء نے ہالاناکہ روڈ پر لاش رکھ کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی۔ہٹڑی تھانے کی حدود میں ایک ہفتے قبل ہالاناکہ کے قریب لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کرکے پون کمار میگھواڑ نامی نوجوان کو شدید زخمی کردیا تھا جسے سول ہسپتال میں داخل کرادیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، مقتول کے ورثاء اور علاقے کے رہائشی افراد نے پون کمار میگھواڑ کی لاش ہٹڑی بائی پاس پر رکھ کر احتجاج کیا جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی، مقتول کے لواحقین کا کہنا تھاکہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ہمیں انصاف دلایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔