حیدرآباد:ڈکیتی مزاحمت پر زخمی نوجوان دوران علاج چل بسا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے والا حیدرآباد کا رہائشی نوجوان سول اسپتال میں ایک ہفتے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔ مقتول کے ورثاء نے ہالاناکہ روڈ پر لاش رکھ کر احتجاج کیا جس کی وجہ سے ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی۔ہٹڑی تھانے کی حدود میں ایک ہفتے قبل ہالاناکہ کے قریب لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے پر ملزمان نے فائرنگ کرکے پون کمار میگھواڑ نامی نوجوان کو شدید زخمی کردیا تھا جسے سول ہسپتال میں داخل کرادیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا، مقتول کے ورثاء اور علاقے کے رہائشی افراد نے پون کمار میگھواڑ کی لاش ہٹڑی بائی پاس پر رکھ کر احتجاج کیا جس کے باعث ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی، مقتول کے لواحقین کا کہنا تھاکہ پولیس ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ہمیں انصاف دلایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔