پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے اب تک کتنے ٹی20 میچز کھیلے اور نتائج کیا رہے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
کولمبو کے تاریخی آر پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹی20 کارکردگی مجموعی طور پر حوصلہ افزا رہی ہے۔
دستیاب ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے اس میدان میں اب تک 8 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں جن میں سے 5 میں کامیابی حاصل کی جبکہ 3 مقابلوں میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
یوں مجموعی طور پر یہ گراؤنڈ گرین شرٹس کے لیے نسبتاً کامیاب میدان ثابت ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 کرکٹ میں بدترین کارکردگی، آخری 25 میچوں میں بڑی ٹیموں کے خلاف پاکستان کے نتائج کیا رہے؟
پاکستان نے اس اسٹیڈیم میں اپنی پہلی ٹی20 فتح 2009 میں میزبان ملک سری لنکا کے خلاف 52 رنز سے حاصل کی تھی، جو اس میدان پر اس کی سب سے بڑی کامیابی بھی ہے۔
2012 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران بھی کولمبو کا یہی میدان کئی یادگار مقابلوں کا گواہ بنا۔
اس ایونٹ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 2 وکٹوں اور آسٹریلیا کو 32 رنز سے شکست دی تھی۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ 2026: نیوزی لینڈ نے متحدہ عرب امارات کو شکست دے دی
تاہم اسی ٹورنامنٹ میں اسے بھارت کے خلاف 8 وکٹوں اور سری لنکا کے خلاف 16 رنز سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
بعد ازاں 2015 میں پاکستان نے ایک بار پھر سری لنکا کے خلاف اسی میدان میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے 2 میچز جیتے تھے۔
ان میں ایک کامیابی ایک وکٹ سے سنسنی خیز انداز میں حاصل کی گئی جبکہ دوسرے میچ میں پاکستان نے 29 رنز سے فتح سمیٹی۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں فاتحانہ آغاز: محسن نقوی نے قومی ٹیم کی جیت فہیم اشرف کے جڑواں بیٹوں سے منسوب کردی
ان فتوحات نے اس گراؤنڈ پر پاکستان کے مثبت ریکارڈ کو مزید مضبوط کیا۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپن کے لیے سازگار اور نسبتاً سست وکٹ رکھنے والا یہ میدان پاکستانی بولرز کے لیے اکثر مددگار ثابت ہوا ہے، جبکہ بیٹنگ لائن نے بھی اہم مواقع پر ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا۔
مجموعی جائزے سے واضح ہوتا ہے کہ آر پریماداسا اسٹیڈیم پاکستان کے لیے ایک ایسا مقام رہا ہے جہاں ٹیم نے زیادہ تر مواقع پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور اہم فتوحات اپنے نام کیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا انٹرنیشنل میچز پاکستان پریماداسا اسٹیڈیم ٹی20 جنوبی افریقہ سری لنکا کولمبو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا سٹریلیا انٹرنیشنل میچز پاکستان پریماداسا اسٹیڈیم ٹی20 جنوبی افریقہ سری لنکا کولمبو پریماداسا اسٹیڈیم میں پاکستان نے سری لنکا کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔