رواں سال ڈیڑھ لاکھ افغانوں کی وطن واپسی، افغانستان میں صورتحال سنگین، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ کی ایجنسی یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ 2026 کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان جا چکے ہیں۔ اکتوبر 2023 سے اب تک دونوں ممالک سے مجموعی طور پر 54 لاکھ افغان وطن لوٹ چکے ہیں۔
ادارے کے مطابق بڑی تعداد میں افغان یا تو رضاکارانہ طور پر واپس جا رہے ہیں یا مشکل حالات میں واپسی پر مجبور ہیں۔ تیز رفتار واپسی نے افغانستان کو مزید بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی صورتحال، خصوصاً خواتین اور بچیوں کے لیے، تشویشناک ہے۔ کمزور معیشت اور قدرتی آفات نے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا میں غیرقانونی افغان مہاجرین کی حفاظت کی جا رہی ہے، وزیرداخلہ محسن نقوی
ورلڈ بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مہاجرین کی واپسی سے آبادی میں اضافے کے باعث 2025 میں فی کس جی ڈی پی میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یو این ایچ سی آر کے سروے میں انکشاف ہوا کہ نصف سے کچھ زائد افراد غیر رسمی نوعیت کا کام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ خواتین میں یہ شرح ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔ نصف سے زائد خاندانوں کے پاس شناختی دستاویزات نہیں اور 90 فیصد سے زیادہ روزانہ 5 ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: باعزت واپسی کا سلسلہ جاری، 16 لاکھ 96 ہزار افغان مہاجرین وطن لوٹ گئے
ادارے نے واپسی کے پائیدار نہ ہونے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ افراد دوبارہ ہجرت پر غور کر رہے ہیں۔ یو این ایچ سی آر نے عالمی برادری سے اضافی امداد کی اپیل کی ہے تاکہ واپسی کرنے والوں کو رہائش، روزگار اور تحفظ فراہم کر کے باوقار زندگی کی بحالی ممکن بنائی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان مہاجرین افغانستان ایران پاکستان ہجرت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان مہاجرین افغانستان ایران پاکستان
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔