WE News:
2026-07-24@01:08:12 GMT

افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی

اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT

افغانستان، دہشتگردی اور پاکستان کی سفارتی حکمت عملی

گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے میڈیا کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سفارتی روابط تو کھلے ہیں اور دہشتگردی کے حوالے سے ان سے بات چیت جاری رہتی ہے لیکن اب ہم اس معاملے کو سیکیورٹی کونسل جیسے بین الاقوامی فورمز پر اٹھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی افغان پالیسی میں شفٹ کیوں آیا؟

وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ یہ افغان حکومت کے عدم تعاون سے متعلق پاکستان کی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

پاکستان کی افغانستان پالیسی حالیہ مہینوں میں زیادہ واضح، دستاویزی اور کثیر جہتی ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ایک طرف کابل کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب سرحد پار دہشتگردی کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ حالیہ پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے اس مؤقف کو مزید وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔

 سرحد پار دہشت گردی: پاکستان کا بنیادی مؤقف

پاکستان کا مستقل مؤقف رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملے کر رہی ہے۔

سلام آباد میں ترلائی امام بارگاہ پر خودکش حملہ ہو یا سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، حکام کے مطابق ان کے روابط سرحد پار موجود نیٹ ورکس سے جڑے ہوتے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے حوالے سے بھی پاکستانی ادارے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے بعض عناصر افغانستان میں موجود رہے ہیں یا انہیں وہاں سہولت کاری میسر آتی رہی ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی افغان پالیسی کتنی درست، افغانستان پر ہمارا کنڑول کتنا تھا، سابق کور کمانڈر پشاور کا تبصرہ

اگرچہ افغان حکام ان الزامات کی تردید کرتے ہیں لیکن پاکستان کا کہنا ہے کہ زمینی حقائق مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔

 سلامتی کونسل کی 1267 رپورٹ: پاکستان کے بیانیے کی تائید

ترجمان دفتر خارجہ نے اپنی حالیہ بریفنگ میں واضح طور پر کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 4 فروری کو جاری ہونے والی 1267 پابندیوں کی کمیٹی رپورٹ پاکستان کے مؤقف کی ’وسیع حد تک تائید‘ کرتی ہے۔

رپورٹ کے اہم نکات جن کا حوالہ بریفنگ میں دیا گیا

افغانستان میں ٹی ٹی پی کو ’زیادہ عملی آزادی‘ حاصل ہے۔

عبوری افغان حکومت  ایک “permissive environment” فراہم کر رہی ہے۔

ٹی ٹی پی افغانستان میں سب سے بڑی دہشتگرد تنظیموں میں شمار ہوتی ہے اور پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث ہے۔

القاعدہ افغانستان میں موجود ہے اور وہ دیگر گروہوں، بالخصوص ٹی ٹی پی، کو تربیت اور مشاورت فراہم کرتی ہے۔

القاعدہ برصغیر (AQIS) جنوب مشرقی افغانستان میں سرگرم ہے۔

داعش خراسان (ISIL-K) شمالی افغانستان میں فعال ہے۔

مزید پڑھیں: افغان طالبان کی پالیسیاں درست نہیں، دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط کا خاتمہ ضروری قرار

ترجمان کے مطابق یہ رپورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر رکن ممالک کی تشویش کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کا تعاون علاقائی حدود سے باہر بھی خطرات پیدا کر سکتا ہے۔

 سفارتی فورمز پر پاکستان کی سرگرمی

پاکستان نے اس مسئلے کو مختلف عالمی پلیٹ فارمز پر اٹھایا ہے:

اقوام متحدہ

جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں باضابطہ بیانات

1267 کمیٹی کے فریم ورک میں دہشتگرد گروہوں کی نشاندہی

خط و کتابت اور دستاویزی شواہد کی فراہمی

شنگھائی تعاون تنظیم

علاقائی انسداد دہشتگردی ڈھانچے کے ذریعے افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار۔

اسلامی تعاون تنظیم

افغانستان کے انسانی بحران کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی خدشات کو بھی زیر بحث لانا۔

 افغان طالبان حکومت اور ذمہ داری کا سوال

سنہ2021  میں افغان طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان کو توقع تھی کہ سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی۔ تاہم سلامتی کونسل کی رپورٹ یہ اشارہ دیتی ہے کہ افغان عبوری حکومت اب بھی بعض گروہوں کو عملی گنجائش فراہم کر رہی ہے۔

یہ نکتہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے:

یہ مطالبہ کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو اب دوطرفہ سطح سے بڑھ کر عالمی سطح پر دستاویزی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔

داخلی سلامتی اور عالمی بیانیہ

پاکستان کے لیے مسئلہ صرف سرحدی دراندازی نہیں بلکہ داخلی استحکام بھی ہے۔ ترلائی جیسے حملے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ بلوچستان میں کارروائیاں معاشی منصوبوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

اسلام آباد کی موجودہ پالیسی 3 ستونوں پر قائم دکھائی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: افغانستان کا پاکستان کے خلاف ہونا ہماری غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور

انٹیلیجنس اور دفاعی اقدامات کی مضبوطی اس کے ساتھ ساتھ کابل کے ساتھ سفارتی چینلز کا تسلسل اور عالمی سطح پر قانونی و اخلاقی جواز کی مضبوطی۔

علاقائی استحکام کا امتحان

 دفتر خارجہ کی حالیہ بریفنگ نے یہ واضح کیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے کو محض بیانیہ جنگ نہیں بلکہ دستاویزی اور قانونی فریم ورک کے اندر لے جانا چاہتا ہے۔ سلامتی کونسل کی رپورٹ کے حوالہ جات نے پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر تقویت دی ہے تاہم پائیدار حل اب بھی کابل کی عملی کارروائیوں اور علاقائی تعاون سے مشروط ہے۔

اگر افغانستان اپنی سرزمین پر سرگرم گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرتا ہے تو تعلقات میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ بصورت دیگر پاکستان کی سفارتی حکمت عملی مزید سخت اور عالمی سطح پر فعال ہوتی نظر آ سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: طالبان کی ناقص پالیسیاں، افغان عوام کی غربت میں اضافہ ہوگیا

خطے کا امن، درحقیقت، اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد سازی اور عملی تعاون پر منحصر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان پاکستان پاکستان کی افغان پالیسی پاکستان کی پالیسی برائے افغانستان پاکستان کی سفارتی حکمت عملی سفارتی فورمز پر پاکستان کی سرگرمی شنگھائی تعاون تنظیم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاکستان پاکستان کی افغان پالیسی پاکستان کی پالیسی برائے افغانستان پاکستان کی سفارتی حکمت عملی سفارتی فورمز پر پاکستان کی سرگرمی شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان کی سفارتی حکمت عملی افغانستان میں موجود پاکستان کی افغان سلامتی کونسل کی عالمی سطح پر دفتر خارجہ پاکستان کے کہ افغان سرحد پار کرتے ہیں ٹی ٹی پی کے ساتھ رہی ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار