میں پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں ہوتا تو ان کو ضرور شامل کرتا‘، آفریدی عمر اکمل اور احمد شہزاد کے حق میں بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی پی ایس ایل 11 میں نظر انداز کیے جانے پر عمرا اکمل اور احمد شہزاد کے حق میں بول پڑے۔بدھ کو پاکستان سپر لیگ سیزن 11 کیلئے کھلاڑیوں کی پہلی بار نیلامی کی گئی جس میں تمام 8 فرنچائزز نے ملکی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنے اسکواڈ کا حصہ بنایا۔بد قسمتی سے پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پہلی سنچری بنانے والے احمد شہزاد اور جارحانہ بیٹر عمر اکمل کو پی ایس ایل میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا۔سابق کپتان شاہد آفریدی نے نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے عمر اکمل اور احمد شہزاد کے حق میں آواز اٹھائی۔شاہد آفریدی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم کچھ کھلاڑیوں کو زیادہ اگنور کردیتے ہیں، مجھے امید تھی کہ 2 نئی ٹیمیں شامل ہونے کے بعد احمد شہزاد اور عمر اکمل کو پی ایس ایل کا حصہ بنایا جائے گا۔سابق کپتان نے کہاکہ دونوں کرکٹرز کھیل بھی رہے ہیں ، پریکٹس کررہے ہیں، جم کررہے ہیں، اتنا اگنور نہیں کرنا چاہیے اور انہیں موقع دینا جاہیے تھا۔شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر میں کسی ٹیم میں ہوتا تو احمد شہزاد اور عمر اکمل کو ضرور شامل کرتا۔ا ن کا کہنا تھا کہ گھر میں ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا، یہ ٹیم منیجمنٹ کا کام ہے کہ وہ کھلاڑیوں کو لے کر چلیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد کسی ایک فرنچائز کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔واضح رہے کہ پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں سیزن کے لیے منتخب نہ ہونے پر لائیو شو میں آبدیدہ ہوگئے تھے۔احمد شہزاد نے کہا 'سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ میرا بیٹا مجھے کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے، وہ اب 9 سال کا ہوگیا ہے'۔قومی کرکٹر یہ بتاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے کہ 'میرے ساتھ رات کو وہ سوتا ہے، وہ میرا دل رکھنے کے لیے کہتا ہے بابا مجھے یاد ہے آپ کھیلتے تھے لیکن اب میں آپ کو اچھے طریقے سے یاد رکھ پاؤں گا'۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اکمل اور احمد شہزاد شاہد ا فریدی پی ایس ایل عمر اکمل
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :