کراچی: ڈاکووں نے سنار کی دکان کا صفایا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
کراچی کے علاقے ملیر سٹی کی گھانچی مارکیٹ میں ڈاکوؤں نے سنار کی دکان کا صفایا کر دیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ گزشتہ صبح پیش آیا جب ملزمان دکان کے تالے کاٹ کر سنار کی تجوری لے گئے۔
واقعے کا مقدمہ ملیر سٹی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
متاثرہ سنار کے مطابق تجوری میں 850 گرام سونا اور 15 لاکھ کیش تھا۔
سنار کا کہنا ہے کہ یہ 5 کروڑ روپے سے زائد کی واردات ہوئی ہے۔
کراچی رنچھوڑ لائن میں گذشتہ ہفتے سنار کی دکان پر.
پولیس نے مارکیٹ کے چوکیدار کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس ملزمان کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی تلاش کر رہی ہے۔
قبل ازیں 5 روز پہلے سعید آباد میں بھی ملزمان نے سنار کی دکان کے تالے کاٹ کر واردات کی تھی جہاں ملزمان 40 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کے سونے اور چاندی کے زیورات لے گئے تھے جس کا مقدمہ سعیدآباد تھانے میں درج ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سنار کی دکان
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔