گانچی مارکیٹ میں سنار کی دکان پرپونے تین کروڑ کی ڈکیتی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر )ملیر سٹی کے گانچی مارکیٹ میں واقع سنار کی دکان میں ایک بڑی چوری کی واردات ہوئی ہے، جس میں نامعلوم ملزمان نے دکان کے تالے توڑ کر تجوری چرا لی۔ چوری کیے جانے والے سونے کی مالیت تقریباً پونے تین کروڑ روپے ہے، اور اس کے ساتھ پانچ لاکھ روپے نقد بھی غائب ہوگئے ہیں۔چوری کی واردات رات کے کسی پہر انجام دی گئی۔ ملزمان نے سنار کی دکان کے تالے توڑ کر اندر موجود تجوری کو نکال لیا۔ تجوری میں آدھا کلو سے زائد سونا اور پانچ لاکھ روپے نقد رقم رکھی ہوئی تھی۔ چوری کیے گئے سونے کی عالمی مارکیٹ میں مالیت تقریباً پونے تین کروڑ روپے ہے۔دکان کے مالک اقبال نے جمعہ کے روز صبح دکان کھولی تو چوری کا پتا چلا اور فوراً پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر تحقیقات کا آغاز کیا۔پولیس نے کرائم سین یونٹ کو موقع پر طلب کیا، جہاں شواہد اکٹھا کیے گئے اور تفتیش شروع کر دی گئی۔ پولیس نے مارکیٹ کے تین چوکیداروں کو حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ چوروں کا سراغ لگایا جا سکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واردات کی تحقیقات میں کئی زاویوں سے کام کیا جا رہا ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے علاقے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، تاکہ ملزمان کی شناخت کی جا سکے اور ان کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔