بھارتی مصنفہ اور معروف ناول نگار ارون دھتی رائے نے اسرائیل کی غزہ کے خلاف جاری جنگ سے متعلق برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کی جیوری کے بیانات پر شدید احتجاج کرتے ہوئے میلے سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں، عالمی شہرت یافتہ ادیب نے جیوری ارکان کے بیانات کو ’ناقابلِ معافی‘ قرار دیا۔

اروندھتی رائے نے خاص طور پر برلنالے کی جیوری کے سربراہ اور معروف جرمن ہدایتکار وم وینڈرز کے اس بیان پر تنقید کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہیے اور فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے کشمیر پر حقائق چھپانے کے لیے 25 کتابوں پر پابندی لگادی

ارون دھتی رائے نے اس مؤقف کو چونکا دینے والا قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اس طرح کے بیانات دراصل انسانیت کے خلاف جاری جرم پر گفتگو کو دبانے کی کوشش ہیں۔

’یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ایک ایسے جرم پر بات چیت بند کر دی جاتی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہو رہا ہے۔‘

شہرۂ آفاق ناول ’دی گاڈ آف اسمال تھنگس‘ سمیت متعدد ادبی اور غیر افسانوی کتب کی مصنفہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو کچھ جاری ہے وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے۔

مزید پڑھیں: جی 20 اجلاس : ایسا لگتا ہے بھارتی حکومت کے بجائے بی جے پی اس سمٹ کی میزبان ہو، ارون دھتی رائے

ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ کو امریکا اور جرمنی سمیت کئی یورپی حکومتوں کی مالی اور سیاسی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک سمجھے جائیں گے۔

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی غزہ سے متعلق پالیسی اور انسانی حقوق کے ’انتخابی اطلاق‘ پر سوال کیا۔

اس پر وِم وینڈرز نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے الگ رہنا چاہیے، جبکہ پولش فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنشکا نے سوال کو ’کسی حد تک غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم ساز حکومتوں کی پالیسیوں کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں دیگر جنگیں بھی جاری ہیں جن پر اس شدت سے بات نہیں کی جاتی۔

مزید پڑھیں: بھارت: عالمی شہرت یافتہ مصنفہ اروندھتی رائے کیخلاف دہشتگردی کا مقدمہ چلانے کی منظوری

اروندھتی رائے کا کہنا ہے کہ فنکاروں، ادیبوں اور فلم سازوں کو غزہ میں جاری جنگ روکنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانی چاہییں۔

وہ اس سال 12 سے 22 فروری تک جاری رہنے والے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جہاں ان کی 1989 کی فلم کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم تازہ پیش رفت کے بعد انہوں نے اپنی شرکت منسوخ کر دی ہے۔

جرمنی، جو امریکا کے بعد اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے، پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ فلسطین کے حق میں اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں: قتل ہونے سے قبل معروف بھارتی سیاستدان بابا صدیق کی آخری سوشل میڈیا پوسٹ کیا تھی؟

2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں اور ادیبوں نے جرمن سرکاری سرپرستی میں چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا مؤقف تھا کہ ان اداروں میں ایسی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں جو آزادیِ اظہار کو محدود کرتی ہیں اور فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کی نگرانی کی جاتی ہے۔

اروندھتی رائے کی دستبرداری نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ آیا فن کو سیاست سے جدا رکھا جا سکتا ہے یا نہیں، اور کیا عالمی ثقافتی پلیٹ فارمز انسانی حقوق کے معاملات پر غیر جانب دار رہ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ارون دھتی رائے بائیکاٹ برلن فلم فیسٹیول.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ارون دھتی رائے بائیکاٹ برلن فلم فیسٹیول ارون دھتی رائے اروندھتی رائے فلم فیسٹیول فلم سازوں کے لیے

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف