سابق پاکستانی اداکارہ اور ڈیجیٹل کریئیٹر اریج فاطمہ نے اپنی پہلی طلاق سے متعلق تفصیلات شیئر کر دیں۔

اریج فاطمہ ایک سابق پاکستانی ٹی وی اداکارہ اور معروف ڈیجیٹل کریئیٹر ہیں جن کی سوشل میڈیا پر بڑی فین فالوونگ ہے۔

وہ اپنے ہٹ ڈراموں ’تیرے لیے‘، ’حسد‘، ’کس دن میرا ویاہ ہووے گا 2‘، ’یارِ بے وفا‘، ’ایک پل‘، ’حدت‘، ’عشق پرست‘ اور ’تیری الفت میں‘ اپنی جاندار اداکاری کے باعث جانی جاتی ہیں۔

اس وقت وہ ڈاکٹر اوزیر کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کے دو پیارے بیٹے ہیں، وہ امریکا میں رہتی ہیں اور اکثر مداحوں کو اپنی زندگی کے بارے میں اپڈیٹس دیتی رہتی ہیں۔

یاد رہے کہ اریج فاطمہ نے 2019 میں ڈرامہ سیریل حسد کی کامیابی کے بعد شوبز کو خیر باد کہہ دیا تھا۔

ان کا پہلا نکاح 2014 میں بزنس مین فراز خان سے ہوا تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا تھا، بعد ازاں انہوں نے 2017 میں کینیڈین ڈاکٹر عزیر علی سے شادی کی اور اب 2 بیٹوں عیسیٰ اور یحییٰ کی والدہ ہیں۔

حال ہی میں اریج فاطمہ حافظ احمد کے پوڈکاسٹ میں شریک ہوئیں جو ان کے آبائی شہر اوہائیو میں ریکارڈ کیا گیا۔

اس پوڈکاسٹ میں انہوں نے پہلی بار اپنی ناکام پہلی نکاح کے بارے میں کھل کر بات کی اور اپنی شادی سے متعلق بھی بتایا۔

اس حوالے سے اریج فاطمہ نے کہا کہ میں کسی کی پیٹھ پیچھے بات نہیں کرتی، لیکن چونکہ آپ نے پوچھا ہے تو بتا دیتی ہوں کہ میرا نکاح بڑوں نے طے کیا تھا، ان کے گھر والے میرے دادا کے جاننے والے تھے اور پاکستان میں ہمارے روابط نہ ہونے کی وجہ سے ہم ٹھیک سے چھان بین نہ کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دن منگنی ہوئی اور اگلے دن نکاح ہو گیا، اور ایک ماہ بعد ختم بھی ہو گیا، رخصتی نہیں ہوئی، میں ان کے لیے نیک تمنائیں رکھتی ہوں کہ وہ خوش رہیں۔

میں نے اس بارے میں کچھ شیئر نہیں کیا مگر لوگوں نے انٹرنیٹ پر بہت سی باتیں پھیلا دیں، یہ جنوری 2014 میں ہوا اور فروری یا مارچ میں ختم ہو گیا، اس وقت میری عمر 24 سال تھی۔

دوسری شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اریج فاطمہ نے کہا کہ میں نے اپنی پہلی طلاق کے 3 سال بعد شادی کی، اوزیر میڈیا سے تعلق نہیں رکھتے تھے، وہ مجھے جانتے بھی نہیں تھے اور نہ ہی اس چیز میں دلچسپی رکھتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ نہیں جانتے کہ میں اپنے شوہر سے اتفاقاً ملی، مجھے یونیورسٹی میں ایک ہی نام کے شخص سے ملنا تھا اور میں نے انہیں میسج کر دیا، وہ میرے کزن کی فرینڈ لسٹ میں بھی موجود تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اوزیر نے مجھے کبھی پرپوز نہیں کیا، انہوں نے صرف پوچھا کہ اگر کسی کو کوئی پسند ہو تو رواج کیا ہے جس پر میں نے کہا لڑکی کے گھر رشتہ بھیجا جاتا ہے، میں نے بھی ایک دیسی لڑکی کی طرح انہیں تھوڑا پریشر ڈالا اور پھر ہماری شادی ہو گئی۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اریج فاطمہ نے انہوں نے ہو گیا

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی