اریج فاطمہ کی اپنی پہلی طلاق پر لب کشائی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
پاکستان کی معروف سابقہ اداکارہ اریج فاطمہ نے اپنی پہلی طلاق سے متعلق تفصیلات شیئر کر دیں۔
سوشل میڈیا پر متحرک رہنے والی سابقہ اداکارہ و ڈیجیٹل کانٹینٹ کری ایٹر اریج فاطمہ نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جو ان کے آبائی علاقے اوہائیو (امریکی ریاست) میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
دورانِ انٹرویو انہوں نے پہلی بار اپنی طلاق پر لب کشائی کی اور اپنی دوسری شادی سے متعلق بھی تفصیلات بیان کیں۔
اپنے پہلے نکاح کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اریج فاطمہ نے کہا کہ میں کسی کی غیر موجودگی میں بات نہیں کرتی، لیکن چونکہ آپ نے پوچھا ہے تو اتنا بتا سکتی ہوں کہ میری رخصتی نہیں ہوئی تھی صرف نکاح ہوا تھا وہ بھی گھر کے بزرگوں کی مرضی سے طے پایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میرے سابقہ شوہر کے بزرگ میرے دادا کے جاننے والے تھے اور پاکستان میں ہمارے براہِ راست روابط نہیں تھے، اس لیے مکمل تحقیق ممکن نہیں ہو سکی، منگنی ہوئی اور اگلے ہی دن نکاح ہو گیا، تاہم ایک ماہ بعد یہ رشتہ ختم ہو گیا تھا، میری رخصتی نہیں ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ میں سابقہ شوہر کے لیے نیک خواہشات رکھتی ہوں، اللّٰہ انہیں خوش رکھے، میں نے اس بارے میں کبھی کچھ شیئر نہیں کیا، البتہ انٹرنیٹ پر مختلف باتیں گردش کرتی رہیں، میری شادی جنوری 2014ء میں ہوئی تھی اور فروری یا مارچ میں ختم ہو گئی تھی، اُس وقت میری عمر 24 برس تھی۔
دوسری شادی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اریج فاطمہ نے بتایا کہ پہلی طلاق کے 3 سال بعد میری دوسری شادی ہوئی، عزیر کا میڈیا سے کوئی تعلق نہیں تھا، وہ مجھے جانتے بھی نہیں تھے، وہ کافی ریزرو طبیعت کے انسان ہیں، بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ میری اپنے شوہر سے ملاقات اتفاقیہ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یونیورسٹی میں ایک ہم نام شخص سے ملنا تھا، اس لیے میں نے انہیں پیغام بھیجا، وہ سوشل میڈیا پر میری کزن کی فرینڈ لسٹ میں بھی موجود تھے، تو ہماری بات شروع ہو گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ عزیر نے کبھی مجھے باقاعدہ پروپوز نہیں کیا، بس یہ پوچھا کہ اگر کوئی کسی کو پسند کرے تو کیا طریقہ کار ہے؟ جس پر میں نے کہا کہ والدین کو گھر بھیجنا چاہیے، میں نے بھی ایک دیسی خاتون کی طرح انہیں قائل کیا اور یوں ہماری شادی ہو گئی۔
اس کے علاوہ دوبارہ اداکاری شروع کرنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں دیگر اسلامی ممالک کی طرح خواتین کو حجاب میں دکھایا جائے تو ضرور کروں گی لیکن اداکاری کے لیے حجاب کو نہیں چھوڑوں گی۔
اریج فاطمہ نے 2019ء میں ڈرامہ سیریل حسد کی کامیابی کے بعد شوبز کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
ان کا پہلا نکاح 2014ء میں بزنس مین فراز خان سے ہوا تھا جو جلد ہی ختم ہو گیا تھا۔
انہوں نے 2017ء میں کینیڈین ڈاکٹر عزیر علی سے شادی کی اور اب 2 بیٹوں عیسیٰ اور یحییٰ کی والدہ ہیں۔
وہ امریکی ریاست اوہائیو میں مقیم ہیں اور 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ اریج فاطمہ نے
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔