پہلی نیشنل چیف آف آرمی اسٹاف ریسلنگ چیمپئن شپ 2026 سیالکوٹ میں اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک)پہلی نیشنل چیف آف آرمی اسٹاف ریسلنگ چیمپئن شپ دو ہزار چھبیس کے انڈر سترہ اور انڈر انیس مقابلے سیالکوٹ میں کامیابی سے اختتام پذیر ہو گئے۔ اس تاریخی ایونٹ میں ملک بھر سے ڈسٹرکٹ، ڈویژن اور صوبائی سطح کے فاتح پہلوانوں نے شرکت کی جبکہ شائقینِ کھیل کی بڑی تعداد فائنل مقابلوں میں موجود رہی۔
مجموعی مقابلوں میں گوجرانوالہ کی ٹیم شیر پنجاب چیمپئن قرار پائی جبکہ پشاور کی ٹیم خیبر فائٹرز نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ فائنل مقابلے سیالکوٹ اسپورٹس اسٹیڈیم میں منعقد ہوئے جہاں سنسنی خیز کشتیوں نے شائقین کو خوب محظوظ کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جنرل آفیسر کمانڈنگ تھے جنہوں نے کامیاب کھلاڑیوں میں میڈلز اور انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر انڈر سترہ اور انڈر انیس کیٹیگریز کا آغاز ملکی کھیلوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ریسلرز نے پاکستان آرمی کے ٹیلنٹ پروموشن اقدامات کو سراہتے ہوئے ایونٹ کے انعقاد پر اظہارِ تشکر کیا۔ کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ کامیاب ایونٹ کے انعقاد پر ہم عسکری قیادت کے بے حد مشکور ہیں اور امید کرتے ہیں کہ پاکستان آرمی نئے ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر مواقع فراہم کرتی رہے گی۔
پاک فوج کے زیر اہتمام اس ایونٹ کا انعقاد کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کی ترقی کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں پاکستان کے لیے معیاری پہلوان تیار ہونے کی امید ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔