پاکستان کی منفرداسٹریٹیجک حیثیت وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا محور
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان نے اپنے منفرد جغرافیائی محل وقوع کی بدولت وسطی ایشیا کی اقتصادی ترقی کے لیے نئے راستے کھول دیے ہیں۔ امریکی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق سی پیک کے تناظر میں پاکستان، ازبکستان اور قازقستان کے درمیان سہ فریقی تعاون نے خطے میں اقتصادی تبدیلی کا آغاز کر دیا ہے۔
جریدے کے مطابق ازبکستان اور قازقستان کے صدور نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا اور سی پیک پر سہ فریقی اشتراک کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ پاکستانی بندرگاہوں کی ترقی اور بہتر انفراسٹرکچر نے لینڈ لاک وسطی ایشیا کے لیے نئی تجارتی راہیں کھول دی ہیں، جس سے تجارتی حجم میں اضافہ ممکن ہوا ہے۔
سی پیک کے ذریعے ازبکستان کو کراچی اور گوادر کے بندرگاہوں کے ذریعے جنوبی تجارتی راستہ میسر ہوا ہے جبکہ قازقستان پاکستان کے ذریعے اپنی برآمدات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق تینوں ممالک کا یہ تعاون نہ صرف خطے کی ترقی بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی ایک اہم محرک ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اسی پس منظر میں وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کر رہا ہے اور سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے جیسے اقتصادی منصوبوں میں اپنی شرکت کو مزید بڑھا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔